12 April 2024

Homeپاکستانیہ انتقام نواز شریف نہیں، قدرت نے سوموٹو لیا: مریم نواز

یہ انتقام نواز شریف نہیں، قدرت نے سوموٹو لیا: مریم نواز

مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز اوکاڑہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے/ فائل فوٹو

یہ انتقام نواز شریف نہیں، قدرت نے سوموٹو لیا: مریم نواز

اوکاڑہ: (سنو نیوز) مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف پر ظلم کرنیوالا ہر ظالم اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ رہا ہے، یہ انتقام نواز شریف نہیں، قدرت نے سوموٹو لیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے اوکاڑہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے انتخابی مہم اوکاڑہ سے شروع کرنے کا کہا، لاہور سے نکلی تو سوچ رہی تھی اتنی دھند میں کون آئے گا، یہاں عوام کا جم غفیر دیکھ رہی ہوں، پنڈال کے باہر بھی لوگ موجود ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اوکاڑہ نے نواز شریف کے ساتھ وفا نبھائی، نواز شریف کی ہدایت پر آج اوکاڑہ سے انتخابی مہم کا آغاز کیا، نواز شریف اوکاڑہ سے پیار کرتے ہیں، اوکاڑہ کے لوگوں نے مجھے زندگی بھر کیلئے خرید لیا، جلسہ بتا رہا ہے 8 فروری کو اوکاڑہ میں شیر دھاڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ قدرت کی لاٹھی چاروں طرف سے اپنا ثر دکھا رہی ہے، جو جتنا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا ہی بزدل ہوتا ہے، لوگوں کو چور چور کہنے والے نے گھڑی تک نہیں چھوڑی، دوسروں کا احتساب کرتے ہوئے فرعون بنے ہوئے تھے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ عدالتوں سے بھاگنے کے مناظر عوام نے دیکھ لیے ہیں، سنا تھا قدرت کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، اب آواز نہیں آ رہی، قدرت کی لاٹھی اپنا اثر دکھا رہی ہے، ٹانگ پر پلستر چڑھانے اور وہیل چیئر کی کہانی سب نے دیکھی، ان کی باری آئی تو یہ ذلت سے گھر گئے، جب اپنی باری آئی تو بزدلی کی داستانیں رقم کیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کیا اوکاڑہ کے عوام کا لیڈر ایسا بزدل ہونا چاہیئے؟ لوگوں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو جیلوں میں ڈالا، دو دن سے شور کر رہے ہیں کہ ہمارا انتخابی نشان چھین لیا، آپ سے کسی نے کوئی نشان واپس نہیں لیا، تمہارا انتخابی نشان بلا نہیں وہ ڈنڈا تھا جو تم نے پکڑا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

الیکشن کمیشن کا سینیٹ قرارداد پر انتخابات ملتوی کرانے سے معذرت

انہوں نے کہا کہ تمہارے ہاتھ میں بلا نہیں، ڈنڈا تھا جو اب چھین لیا گیا ہے، تم نے اس ڈنڈے سے قومی تنصیبات پر حملے کیے، نواز شریف عزت سے گھر گیا تھا، یہ ذلت سے گئے ہیں، نواز شریف کے دور میں سستی چینی، گھی، پیٹرول مل رہا تھا، اوکاڑہ کے عوام نےا ب کوئی ہیرا پھیرا نہیں ہونے دینی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ڈنڈے سے شہدا کی یادگاروں کو توڑا گیا، اس کا قصور نہیں، اسے لاڈلے پن کی عادت تھی، عدالت میں گڈ ٹو سی یو کہا جاتا تھا، دہشت گرد جماعت کو سیاسی جماعت کا نشان نہیں مل سکتا، انہیں سہولت کاری کی عادت تھی، اب وہ سہولت کاری نہیں رہی، شیر کو شیر کا نشان مل سکتا ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ اب فیصلے عوام کی عدالت اور قانون کرے گا، پارٹی الیکشن میں ہیرا پھیرا کر کے پتلی گلی سے نہیں نکل سکتے، خیبرپختونخوا کے چھوٹے سے گاؤں میں جعلی الیکشن کرائے گئے، اب ساس سے فون کروا کے فیصلے لینے کی سہولت میسر نہیں، کہتے ہیں چور چوری سے جاتا ہے، ہیرا پھیرا سے نہیں، اس ڈنڈے سے تم نے پولیس والوں کی ہڈیاں توڑیں۔

مریم نواز نے کہا کہ دوسروں سے رسیدیں مانگنے والے اپنی رسیدیں پیش نہ کرسکے، فتنہ کہتا تھا نواز شریف کو امپائر ساتھ ملا کر کھیلنے کی عادت ہے، تمہارا انتخابی نشان وہ گھڑی ہونی چاہیئے جو تم نے چوری کی، تمہارے امپائر، سہولت کار اور جعل سازی پکڑی گئی، انہوں نے سوچا ہوگا 2018 کی طرح آر پی ایس بند کروا کر جیت جائیں گے، ایسے لوگوں کو انتخابی نشان نہیں بلکہ عبرت کا نشان ملتا ہے، جتنے ووٹ شیر کو ملیں گے اتنی تیزی سے گیس آپ کے گھروں میں آئے گی۔

Share With:
Rate This Article