19 April 2024

Homeتازہ ترینمصری خاتون رکن پارلیمان امتحان میں نقل کرتے پکڑی گئیں

مصری خاتون رکن پارلیمان امتحان میں نقل کرتے پکڑی گئیں

الوفد پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ نشوۃ رائف / فائل فوٹو

مصری خاتون رکن پارلیمان امتحان میں نقل کرتے پکڑی گئیں

قاہرہ: (ویب ڈیسک) مصر کی خاتون رکن پارلیمان امتحان میں نقل کرتے پکڑی گئیں جس کی تحقیقات کے لئے باقاعدہ کمیٹی بنائے جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق مصری پارلیمنٹ کے سپیکر حنفی جبالی نے الوفد پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ نشوۃ رائف کے امتحان میں مبینہ طور پر نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کا معاملہ اخلاقیات کمیٹی کے حوالے کر دیا۔

سپیکر نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا’ سوشل میڈیا اور نیوز چینلز کی رپورٹس میں رکن پارلیمنٹ نشوۃ محمد رائف کو جنوب الوادی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لا کے تیسرے سال کا امتحان دیتے ہوئے نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کا دعوی کیا گیا ہے۔

سپیکر نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی واقعہ کی تحقیقات کر کے ایوان میں رپورٹ پیش کرے گی، اگر یہ الزام ثابت ہوگیا تو رکن پارلیمنٹ کےخلاف کارروائی ہوگی، کیس حقائق کا پتہ لگانے کےلیے اخلاقیات کمیٹی میں بھیجا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اسرائیلی بربریت، غزہ میں مزید 135 افراد شہید

مصری الوفد پارٹی کے سربراہ عبدالسند یمامہ کا کہنا ہے کہ رکن پارلیمنٹ نشوۃ رائف کی پارٹی کی رکنیت سے متعلق کارروائی تحقیقات کے نتائج پر منحصر ہے، اگر الزام ثابت ہوگیا تو الوفد پارٹی کی اعلی اتھارٹی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے خصوصی اجلاس کرے گی۔

عبدالسند یمامہ نے کہا کہ اگر ایگزیمینشن ہال میں نقل کا الزام ثابت نہیں ہوا تو رکن پارلیمنٹ کو تشہیری مہم سے پہنچنے والے نقصان کا ہرجانہ کیس دائر کرنے کا حق ہوگا۔

قبل ازیں مصر کی جنوب الوادی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے دعوی کیا تھا کہ یونیورسٹی کی خاتون ایگزامنر نے ایک طالبہ کو ایئر فون کے ذریعے نقل کرتے ہوئے پکڑا۔

طالبہ نے ایئر فون ایگزامنر کے حوالے کرنے سے انکار کیا اور خاتون ایگزامنر پر حملہ کیا جب سپروائزر نے بچانے کی کوشش کی تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبہ کو امتحان دینے سے روک دیا۔

بعد میں پتہ چلا کہ طالبہ، مصری پارلیمنٹ کی رکن ہیں۔ فوری طور پر رپورٹ درج کرا کے قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ رکن پارلیمنٹ نشوۃ رائف نے بھی امتحان دینے سے روکے جانے پر ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔

Share With:
Rate This Article