12 April 2024

Homeالیکشن 2024الیکشن لڑنا اچھی چیز نہیں،بچوں کی پرورش کرو:عدالت

الیکشن لڑنا اچھی چیز نہیں،بچوں کی پرورش کرو:عدالت

سندھ ہائی کورٹ نے ق لیگ کے پی ایس 76 سے امیدوار کی الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف درخواست مستردکرتے ہوئے مشورہ دیا کہ رزق حلال کماؤ، بچوں کی جاکر اچھی پرورش کرو

الیکشن لڑنا اچھی چیز نہیں،بچوں کی پرورش کرو:عدالت

کراچی: (ویب ڈیسک )سندھ ہائی کورٹ نے ق لیگ کے پی ایس 76 سے امیدوار کی الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف درخواست مستردکرتے ہوئے مشورہ دیا کہ رزق حلال کماؤ، بچوں کی جاکر اچھی پرورش کرو الیکشن لڑنا ویسے بھی اچھی چیز نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو مسلم لیگ ق کے پی ایس 76 سے امیدوار معشوق علی جانوری کی الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ معشوق علی جانوری 8 ویں پاس ہے، اس سے فارم جمع کراتے وقت کچھ غلطیاں ہوئیں جس کی بنا پر فارم مسترد ہوا اسے منظور کیا جائے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 8 ویں پاس ہو یا پی ایچ ڈی کر رکھا ہو، اگر کسی مرحلے کا حصہ بننا ہے تو سارے قواعد پورے کرنا ہوں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے امیدوار سے کہا کہ کس کے فرنٹ مین ہو؟ کون ہو؟ کیسے مقابلہ کرو گے؟درخواست گزار نے کہا کہ مسلم لیگ ق نے نامزد کیا ہے، حلقے کے عوام کی مدد سے الیکشن لڑرہا ہوں۔اعتراض کنندہ کے وکیل نے کہا کہ اس امیدوار کا پیشہ لکھا ہوا ہے وہ گدھا گاڑی چلاتا ہے اور اس نے کاغذات میں پستول بھی ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

لاہور میں کون کس کے مدمقابل؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فارم بھرنا نہیں آتا؟ کئی لوگ تو بوگس فارم بھی جمع کراتے دیتے ہیں، پستول کہاں سے آیا تمہارے پاس؟ کیا بندوق دکھا کر الیکشن لڑو گے؟ خالی فارم بھردو اور الیکشن لڑنے پہنچ جاؤ؟ ۔

بعد ازاں عدالت نے مسلم لیگ ق کے پی ایس 76 سے امیدوار معشوق علی جانوری کی الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر اور الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب الیکشن ملتوی کروانے کی ایک اور قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی گئی ہے، قرارداد سینیٹر ہلال الرحمان نے جمع کرائی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شدید سردی اور برفباری خیبر پختونخوا میں شہریوں کو ساز گاز ماحول میں ووٹ ڈالنے سے روک رہی ہے، امیداروں کے لیے الیکشن مہم چلانے بے شمار چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی خدشات کے باعث امیداروں کو انتخابی مہم کے دوران دہشت گردوں کے حملے کا خدشہ ہے، خیبر پختونخوا کے ووٹرز اور امیفواروں میں احساس محرومی یے۔

خیبر ہختونخوا میں الیکشن تاریخ غیر موزوں ثابت ہو رہی ہے،عام انتخابات کو 8 فرروی 2024 کی بجائے موزوں تاریخ تک ملتوی کیا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی فاٹا سے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے ہدایت اللہ نے سینیٹ میں سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر الیکشن 3 ماہ کے لئے ملتوی کرانے کی قرارداد جمع کرائی گئی تھی۔

آزاد سینیٹر ہدایت اللہ نے قرار داد میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں اس وقت سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے جس کے پیش نظر عام انتخابات کو تین ماہ کیلئے ملتوی کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:

بلا چھن گیا، پی ٹی آئی کے کھلاڑی آزاد

واضح رہے کہ 5 جنوری 2024ء کو ملک میں بڑھتے دہشتگردی کے واقعات کے بعد الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور کرلی گئی تھی۔ سینیٹر دلاور خان نے الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد سینیٹ میں پیش کی جسکے متن میں کہا گیا کہ ملک میں سیکیورٹی کے حالات انتہائی خراب ہیں، مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے، ملک کے مختلف علاقوں میں جنوری اور فروری میں موسم سرما اپنی انتہا پر ہوتا ہے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، فروری میں ہونے والے انتخابات کو ملتوی کیا جائے، موزوں وقت تک الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کرے۔ قرارداد اکثریت سے منظور کر لی گئی۔

سینیٹ اجلاس میں 14 ارکان موجود تھے مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 2013 اور 2018 میں سخت حالات کی دوران الیکشن ہوئے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سینیٹرز نے بھی قرارداد کی مخالفت کی۔ ثمینہ ممتاز زہری نے الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اچانک سے ایسا کیا ہوا کہ قرارداد پیش کر دی گئی۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ پیپلزپارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی اور تحریک انصاف کے گردیپ سنگھ نے پہلی بار حمایت کی اور دوسری بار خاموش رہے ۔ سینیٹر افنان اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دوسری جنگ عظیم میں بھی انتخابات کا عمل نہیں رکا،سپریم کورٹ نے کہا ہے 8 فروری کو الیکشن پتھر پر لکیر ہے۔

Share With:
Rate This Article