10 December 2023

Homeکھیلقومی ٹیم کی ناقص کارکردگی،سینٹرل کنٹریکٹ میں تبدیلی کا امکان

قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی،سینٹرل کنٹریکٹ میں تبدیلی کا امکان

پاکستان کرکٹ بورڈ کا لاہور میں ہیڈکوارٹر

قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی،سینٹرل کنٹریکٹ میں تبدیلی کا امکان

لاہور:(سنونیوز)ورلڈکپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کا از سر نو جائزہ لینے پرغور شروع کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کے کوچ ، کپتان اور منیجر کی رپورٹ کے بعد اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے کئی کھلاڑی پہلے ہی اعتراضات اٹھا چکے ہیں۔سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کی کیٹگریز میں بھی ردو بدل کی تجویز ہے۔سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کے معاوضوں میں قابل ذکر اضافہ کیا گیا، جس میں آئی سی سی ریونیو کا حصہ بھی شامل ہے۔

سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل تمام کرکٹرز کی کارکردگی کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان کا کہنا تھا کہ آ ج کے کھلاڑیوں کواپنی پرفارمنس بہتر کرنے کیلئے بہت قربانی دینا ہو گی، کسی چیز کو پانے کیلئے اپنے آرام اور سکون سے باہر آ کر محنت کرنا ہوگی اور کسی بھی بڑے ایونٹ میں جا کر یہی سوچنا ہو گا کہ مجھے ٹرافی لیکر جانی ہے، اس ایونٹ کو جیتنا ہے یہ سوچ ہونی چاہیے ہمارے کھلاڑیوں کی ۔

انہوں نے کہا کہ میں اگر 2009 کی ٹرافی کی بات کروں تو تب بھی ملکی حالات کچھ اچھے نہیں تھے مجھے پتہ تھا کہ ہماری ایک جیت لوگوں کیلئے کتنی ضروری ہے، ہمیں جیتنا ہے ملکر کھیلنا ہے، تب سب کھلاڑیوں نے بیٹنگ ، فیلڈنگ اور بائولنگ تمام شعبوں میں اچھا پرفارم کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی کو فارغ کر دیا

انہوں نے کہا کہ اگر ہم بابر اعظم کی بات کریں تو آج ہمارے ہارنے کی وجہ بابر نہیں ہے، تمام کھلاڑی اس ہار کے ذمہ دار ہیں، ہمارے زمانے میں اتنا سٹاف نہیں ہوتا تھا آج تو ہیڈ کوچ، کوچ اور اسسٹنٹ کوچ ہوتے ہیں سٹاف بہت ہے پھر میڈیا بھی بہت ایکٹیو ہو گیا ہے، کھلاڑی پر ان سب کا بہت پریشر ہوتا ہے۔

سابق کھلاڑی نے کہا کہ اب ریکوری کیسے کرنی ہے بورڈ کو یہ سوچنا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بابر، رضوان،حارث،فخر زمان اور شاہین کو ریسٹ کروادیں یا ہم ان کو ٹرول کریں، یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ آپ کہہ دو کہ کھلاڑیوں کا مستقبل نہیں ہے اگر کسی کھلاڑی کا مستقل نہیں ہے تو ٹیم کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہوتا کیونکہ کھلاڑیوں سے ہی ٹیم بنتی ہے اگر کوئی کھلاڑی فٹ ہے تو اسے کھیلانا چاہیے ۔

شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لئے اہم مشورہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ ہو رہی ہو تو کسی بھی کھلاڑی کو باہر کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ایک تقریب کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ قومی ٹیم میں سلیکشن کے دوران دوستیاں نبھائیں گی جس پر سابق کپتان و قومی آل راؤنڈ شاہد آفری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ ورلڈکپ میں باؤلرز نے بہت زیادہ رنز دیئے، بلے بازوں کی پرفارمنس بھی بہتر نہیں تھی۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمیں کرکٹ کی بہتری قربانی دینا پڑے گی، جب ملک میں ڈومیسٹک سیزن چل رہا تو کسی بھی کھلاڑی کو لیگ کے لئے این او سی نہ دیا جائے، جب تک ہم ڈومیسٹک کرکٹ کو اہمیت نہیں دیں گے ہماری کرکٹ میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔

سابق کپتان نے مزید کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ابھی بھی فلیٹ وکٹیں بنائی جا رہی ہیں، ہمیں فلیٹ، سپیننگ، سیمینگ اور باؤنسی ٹریک بنانے چاہیے، ہر کھلاڑی مختلف پیچز پر کھیلتے ہوئے اپنی پرفارمنس دکھائے، یہ سب سے اہم چیز ہے، فلیٹ وکٹ پر ہر کھلاڑی 200 رنز سکور کر رہا ہے، ہمیں پچزز پر کام کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا عمر گل پاکستان کے باؤلنگ کوچ کا عہدہ قبول کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اے ٹیم، انڈر 19 ٹیم کو انگلینڈ، آسٹریلیا اور ساؤتھ افریقہ کے ٹورز کروانے چاہیں، پاکستانی ٹیم کے زیادہ ٹورز بنگلادیش، زمبابوے اور دبئی کہ کروائے جاتے ہیں، کرکٹ کی بہتری کے لئے تمام کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سیزن کھیلنا پڑے گا۔

دوسری جانب سابق قومی فاسٹ باؤلر عمر گل نے کراچی میں منعقد ایک تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے۔ اس موقع پر ایک صحافی نے عمر گل سے سوال کیا کہ مستقبل میں آپ باؤلنگ کوچ کی ذمہ داری سنبھالنے جا رہے ہیں جس پر عمر گل نے جواب دیا کہ مجھے یہ بریکنگ نیوز میڈیا سے پتہ ملی ہے، فی الحال اس بارے مجھے کوئی علم نہیں ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کرکٹر شعیب ملک نے کراچی میں ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی گیم میں ایک ہونا بہت ضروری ہے، ٹیم میں اپنے لیڈر کپتان کے ہر فیصلے کو مانا جاتا ہے، سب کرکٹرز یہ ہی چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے لیے اچھا ہو ۔

انہوں نے کہا کہ جتنا بابر پر میں بولا ہوں کوئی نہیں بولا ہے، بابر بھی تو کہتا ہے کہ میرا نمبر ہے سب کے پاس تو مجھے کال کرو، اگر بابرکی بہترین ٹیموں کیخلاف پرفارمنس اچھی رہی ہے تو اسے کپتان ہونا چاہیے لیکن اگر گراف وہاں تک نہیں پہنچا ہے تو اسے کپتان نہیں ہونا چاہیے، ہم میں سے کوئی بھی بابر کے مخالف نہیں ہے، ہم سب جانتے ہیں وہ ایک اچھا کھلاڑی ہے۔

شعیب ملک کا مزید کہنا تھا کہ بابر اگر ایک کھلاڑی کے طور اچھا کھیل سکتا ہے تو اسے بطور کھلاڑی ہی اپنی خدمات ٹیم کیلئے دینی چاہیں کیونکہ انڈیا میں جیسی کنڈیشنز تھیں اس میں وہ اس طرح پرفارم کرتے ہوئے نظر نہیں آیا، چونکہ ٹیم نہیں جیت پائی تو اسکا پریشر اس پر تھا جس کی وجہ سے وہ سکور بھی نہیں کر پایا۔

سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ ہمیں اگلے ورلڈ کپ 2027 کیلئے ایک ایسا کپتان چاہیے جو ہمیں جتوا سکے نہ کہ ہم یہ سوچیں کہ اگلے سال اور 6 مہینے بعد ہمیں کون جیتوائے گا،کپتان میں پرفارمنس کے ساتھ ساتھ لیڈرشپ زیادہ ضروری ہے،کپتان وہ ہونا چاہیے جس میں ٹیم میں تمام کھلاڑیوں کا ساتھ لیکر چلنے کا ہنر ہو۔

Share With:
Rate This Article