29 November 2023

Homeتازہ تریناسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے الشفاء ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا

اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے الشفاء ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا

اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے الشفاء ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا

اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے الشفاء ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا

غزہ: (سنو نیوز) الشفاء ہسپتال کے اندر کشیدگی کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ ٹینکوں نے ہسپتال کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ ہسپتال کے اندر اور باہر جانا ممکن نہیں ہے۔یہاں تک کہ ہسپتال کے اندر بھی ایک عمارت سے دوسری عمارت میں جانے میں بڑا خطرہ ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہسپتال میں بجلی، پانی اور دوائیاں نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے لوگ مر چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سینئر مشیر مارک ریجیو نے پیر کے روز کہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کو الشفاء ہسپتال میں 300 لیٹر تیل پہنچانے کی کوشش کی تھی لیکن حماس نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔تاہم حماس نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

ہسپتال کے اندر موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن بھی مل جائے تو آدھا گھنٹہ ہی چلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کو روزانہ کم از کم 10 ہزار لیٹر تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ ہسپتال کے نیچے حماس کا کمانڈ آفس ہے تاہم حماس اس کی تردید کرتی رہی ہے۔

غزہ تنازع: امریکا اور برطانیہ کی اپیل کے درمیان حماس کے خلاف اسرائیل کے الزامات

غزہ میں شہری حقوق کے حوالے سے امریکا اور برطانیہ کی جانب سے دی گئی تجاویز کے درمیان اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ‘پروپیگنڈے کے لیے الشفاء ہسپتال کا بحران پیدا کیا ہے’۔

7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ان ممالک نے غزہ پر اسرائیل کی جوابی کارروائی کے دوران بھی اپنی حمایت برقرار رکھی۔ لیکن حال ہی میں امریکی صدر جو بائیڈن اور برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے فلسطینی ہسپتالوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

امریکا میں صدر بائیڈن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں الشفاء ہسپتال کے قریب اس طرح کی جارحیت کی توقع نہیں تھی۔ الشفا غزہ شہر کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس تنازعے کو عارضی طور پر روکنے کی اپیل کی ہے تاکہ ہسپتال کے اندر پھنسے ہوئے افراد باہر نکل سکیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ الشفاء ہسپتال سے متعلق بحران حماس نے پروپیگنڈے کے مقاصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے بھی گذشتہ رات اس بارے میں بات کی اور کہا کہ غزہ میں بہت سے لوگ مر رہے ہیں۔ انہوں نے جنگ کو روکنے کی اپیل بھی کی ہے۔

تاہم امریکا اور برطانیہ نے مکمل جنگ بندی کی اپیل نہیں کی جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے اس حوالے سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

غزہ کے الشفاء ہسپتال کے حالات ‘قبرستان کی طرح’: عالمی ادارہ صحت

غزہ کے الشفاء ہسپتال کی حالت کے بارے میں عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یہاں کی صورتحال ‘قبرستان جیسی’ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسچن لنڈمیئر نے کہا ہے کہ اس وقت اس ہسپتال میں 600 افراد زیر علاج ہیں۔

ان کے بقول، ’’ہسپتال کے اردگرد بہت سی لاشیں پڑی ہیں، جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘ ان لاشوں کو دفن نہیں کیا جا رہا۔ یہ ہسپتال اب کام نہیں کر رہا بلکہ قبرستان جیسا بن گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہسپتال میں لاشوں کا ڈھیر ہے اور کئی لاشیں سڑنا شروع ہوگئی ہیں۔

شمالی غزہ کا یہ ہسپتال گذشتہ کئی دنوں سے خبروں میں ہے۔ طبی اور خوراک کی سہولیات کی کمی کے باعث ڈبلیو ایچ او کا دعویٰ ہے کہ اب اس ہسپتال نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ تاہم اسرائیل کی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس اس ہسپتال کو اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حماس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرہسپتال کے نیچے واقع سرنگ میں ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کا کہنا ہے کہ غزہ میں بچوں کے ایک ہسپتال کو بھی حماس اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ ساتھ ہی حماس اور ہسپتال انتظامیہ دونوں اسرائیل کے دعوے کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔

حماس کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد اب بڑھ کر 11,240 ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دو لاکھ فلسطینی شمالی غزہ چھوڑ کر جنوبی غزہ چلے گئے ہیں۔ دریں اثناء برطانوی وزیراعظم رشی سنک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے یرغمالیوں کو آزاد کرنے اور اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن اسے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔

Share With:
Rate This Article