19 April 2024

Homeتازہ ترینکھلاڑی ہیں تو ٹیم ہے، یونس خان پلیئرز کے حق میں بول پڑے

کھلاڑی ہیں تو ٹیم ہے، یونس خان پلیئرز کے حق میں بول پڑے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان

کھلاڑی ہیں تو ٹیم ہے، یونس خان پلیئرز کے حق میں بول پڑے

کراچی:(سنو نیوز) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان کا کہنا تھا کہ آ ج کے کھلاڑیوں کواپنی پرفارمنس بہتر کرنے کیلئے بہت قربانی دینا ہو گی، کسی چیز کو پانے کیلئے اپنے آرام اور سکون سے باہر آ کر محنت کرنا ہوگی اور کسی بھی بڑے ایونٹ میں جا کر یہی سوچنا ہو گا کہ مجھے ٹرافی لیکر جانی ہے، اس ایونٹ کو جیتنا ہے یہ سوچ ہونی چاہیے ہمارے کھلاڑیوں کی ۔

انہوں نے کہا کہ میں اگر 2009 کی ٹرافی کی بات کروں تو تب بھی ملکی حالات کچھ اچھے نہیں تھے مجھے پتہ تھا کہ ہماری ایک جیت لوگوں کیلئے کتنی ضروری ہے، ہمیں جیتنا ہے ملکر کھیلنا ہے، تب سب کھلاڑیوں نے بیٹنگ ، فیلڈنگ اور بائولنگ تمام شعبوں میں اچھا پرفارم کیا۔

YouTube video player

انہوں نے کہا کہ اگر ہم بابر اعظم کی بات کریں تو آج ہمارے ہارنے کی وجہ بابر نہیں ہے، تمام کھلاڑی اس ہار کے ذمہ دار ہیں، ہمارے زمانے میں اتنا سٹاف نہیں ہوتا تھا آج تو ہیڈ کوچ، کوچ اور اسسٹنٹ کوچ ہوتے ہیں سٹاف بہت ہے پھر میڈیا بھی بہت ایکٹیو ہو گیا ہے، کھلاڑی پر ان سب کا بہت پریشر ہوتا ہے۔

سابق کھلاڑی نے کہا کہ اب ریکوری کیسے کرنی ہے بورڈ کو یہ سوچنا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بابر، رضوان،حارث،فخر زمان اور شاہین کو ریسٹ کروادیں یا ہم ان کو ٹرول کریں، یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ آپ کہہ دو کہ کھلاڑیوں کا مستقبل نہیں ہے اگر کسی کھلاڑی کا مستقل نہیں ہے تو ٹیم کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہوتا کیونکہ کھلاڑیوں سے ہی ٹیم بنتی ہے اگر کوئی کھلاڑی فٹ ہے تو اسے کھیلانا چاہیے ۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کرکٹر شعیب ملک نے کراچی میں ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی گیم میں ایک ہونا بہت ضروری ہے، ٹیم میں اپنے لیڈر کپتان کے ہر فیصلے کو مانا جاتا ہے، سب کرکٹرز یہ ہی چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے لیے اچھا ہو ۔

YouTube video player

انہوں نے کہا کہ جتنا بابر پر میں بولا ہوں کوئی نہیں بولا ہے، بابر بھی تو کہتا ہے کہ میرا نمبر ہے سب کے پاس تو مجھے کال کرو، اگر بابرکی بہترین ٹیموں کیخلاف پرفارمنس اچھی رہی ہے تو اسے کپتان ہونا چاہیے لیکن اگر گراف وہاں تک نہیں پہنچا ہے تو اسے کپتان نہیں ہونا چاہیے، ہم میں سے کوئی بھی بابر کے مخالف نہیں ہے، ہم سب جانتے ہیں وہ ایک اچھا کھلاڑی ہے۔

دوسری جانب شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لئے اہم مشورہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ ہو رہی ہو تو کسی بھی کھلاڑی کو باہر کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ایک تقریب کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ قومی ٹیم میں سلیکشن کے دوران دوستیاں نبھائیں گی جس پر سابق کپتان و قومی آل راؤنڈ شاہد آفری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ ورلڈکپ میں باؤلرز نے بہت زیادہ رنز دیئے، بلے بازوں کی پرفارمنس بھی بہتر نہیں تھی۔

Share With:
Rate This Article