19 April 2024

Homeپاکستانکیسے ایک پارٹی سے انتخابی نشان لے سکتے ہیں؟ شاہد خاقان عباسی

کیسے ایک پارٹی سے انتخابی نشان لے سکتے ہیں؟ شاہد خاقان عباسی

Shahid Khaqan Abbassi

کیسے ایک پارٹی سے انتخابی نشان لے سکتے ہیں؟ شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کے معاملے پر عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیسے ایک پولیٹیکل پارٹی سے اس کا انتخابی نشان لیا جا سکتا ہے؟ انتخابات میں حصہ لینا آئینی حقوق میں شامل ہے۔

یہ بات انہوں نے نجی ٹیلی وژن کو انٹرویو میں کہی۔ شاہد خاقان عباسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے الیکشن میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہیں لیا، اس کا مطلب واضح ہے کہ میں اب اس سیاسی جماعت میں نہیں ہوں۔ اس کے پیچھے کوئی تو وجہ ہوگی کہ ایک شخص جس نے پینتیس سال ایک جماعت کیلئے گزارے اور اس کا ٹکٹ نہ لیا، یہ واضح او ر غیر معمولی بات ہے۔ میں جب ن لیگ میں شمولیت اختیار کی نہ تو اس وقت اور نہ ہی آج اس کو چھوڑتے وقت کسی تقریب کی ضرورت ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ لینے کے بعد جماعت کے کچھ ساتھیوں سے بات کی اور اپنے حلقے کیلئےلیگی ورکرز کے نام دئیے اوربتایا کہ میری سپورٹ ان کیساتھ ہوگی لیکن ان میں سے کسی کو ٹکٹ نہیں دیئے گئے، ابکسی ایسے امیدوار کو سپورٹ نہیں کروں گا جس کس تعلق ن لیگ سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:

شاہد خاقان عباسی کا الیکشن نہ لڑنے کا اعلان

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے میرے بارے میں جو فیصلہ کیا، اس کے بعد میں مکمل آزاد ہوں۔ میرے حلقے کی عوام کا مجھ پرپریشر تھا کہ میں الیکشن میں حصہ لوں، اگرکارکن ساتھ کھڑے رہے تو میں ان کو بھرپور سپورٹ کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں سیاست نہیں چھوڑوں گا لیکن آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا، اس بارے میں الیکشن کے بعد ہی بتائوں گا۔ میں کوئی پولیٹیکل پارٹی بنائوں یا نہ بنائوں لیکن نئی پارٹیاں ضروری بنیں گی، کیونکہ پاکستان میں خلا پیدا ہو چکا ہے۔ نئی پولیٹیکل پارٹی بنی تو وہ صرف چند لوگوں کا گروپ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:

شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کی راہیں جدا؟

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان نے کہا کہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے نئی پولیٹیکل پارٹی کیلئے خلا پیدا کر دیا ہے۔ نئی جماعت کے پاس بڑا مقصد ہوگا۔میں پیٹریاٹ، مسلم لیگ ق یا استحکام پاکستان پارٹی کی طرح کسی تماشے کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید بات کرتے ہوئے کہ کہا کہ ہم نے تاریخ سے کچھ سبق نہیں سیکھا، ہر آدمی آج کل سوال پوچھ رہا ہے کہ عام انتخابات ہوں گے یا نہیں؟ یہاں پرانی فائلیں نکال کرپھر وہی کام شروع کردیا جاتا ہے۔

Share With:
Rate This Article