19 April 2024

Homeتازہ تریننیلی وہیل کے بارے میں دلچسپ حقائق

نیلی وہیل کے بارے میں دلچسپ حقائق

نیلی وہیل کے بارے میں دلچسپ حقائق

نیلی وہیل کے بارے میں دلچسپ حقائق

لاہور: (سنو نیوز) آبی مخلوق کی زندگی سے متعلق بہت سی چیزیں ہیں، جو کہ بہت دلچسپ ہیں۔ ان میں سے ایک بلیو وہیل ہے جس کے بارے میں سائنسدان ابھی تک تحقیق کر رہے ہیں۔ یہاں جانتے ہیں بلیو وہیل سے متعلق کچھ دلچسپ باتیں، جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

آج بھی سمندر میں ایسے لاتعداد اسرار پوشیدہ ہیں جن کی تہہ تک سائنسدان پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سائنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ آج انسان چاند پر اپنی دنیا قائم کرنے میں کامیاب ہونے کے قریب ہے لیکن سمندر کے اندر کی دنیا ہمارے لیے اب بھی پراسرار ہے۔

سمندر میں ایسی مخلوقات ہیں جن کے بارے میں ابھی تک بہت کچھ دریافت نہیں ہو سکا۔ اسی سلسلے میں آج ہم دنیا کے سب سے بڑے جانور بلیو وہیل مچھلی کے بارے میں بات کریں گے۔ آج ہم آپ کو اس سے متعلق دلچسپ باتیں بتانے جارہے ہیں۔

بلیو وہیل دنیا کا سب سے بڑا آبی جانور:

دنیا کا سب سے بڑا اور منفرد جانور انٹارکٹک بلیو وہیل ہے جو سمندر پر راج کرتا ہے۔ نیلی وہیل بحراوقیانوس، شمالی بحرالکاہل، جنوبی بحر ہند، بحر ہند اور جنوبی بحر الکاہل میں پائی جاتی ہیں۔

بلیو وہیل کا وزن:

نیلی وہیل کا وزن تقریباً 4,00,000 پاؤنڈ ہے۔ ایک وہیل کا وزن 33 ہاتھیوں کے برابر ہے۔ یہ تقریباً 98 فٹ لمبی ہوتی ہے۔ صرف اس کی زبان کا وزن ہاتھی کے برابر ہے۔

سائز:

نیلی وہیل ڈائنوسار سے بڑی ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سب سے بڑے ڈائنوسار کے ڈھانچے کی لمبائی 27 میٹر تھی۔ ایک ہی وقت میں، نیلی وہیل مچھلی کا سائز 30 میٹر یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

نیلی وہیل کے بارے میں دلچسپ حقائق :

یہ ایک ممالیہ جانور ہے جو ناصرف زمین کا سب سے بڑا جانور ہے بلکہ اس کی آواز دنیا میں سب سے بلند ہے۔

نیلی وہیل کی آواز جیٹ انجن سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ہلکی سی آواز سینکڑوں میل دور سے بھی سنی جا سکتی ہے۔

ایک جیٹ انجن 140 ڈیسیبل کی آواز پیدا کرسکتا ہے، جب کہ ایک وہیل 188 ڈیسیبل تک آواز پیدا کرسکتی ہے۔

بلیو وہیل کی عمر بھی بہت لمبی ہوتی ہے، یہ تقریباً 80-90 سال تک زندہ رہتی ہے۔

وہیل مچھلی کے دل کا سائز کار جتنا بڑا ہوتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ زمین کا سب سے بڑا جانور کیوں ہے۔

اس مچھلی کے گلے نہیں ہوتے لیکن اس کے پھیپھڑے انسانوں کی طرح ہوتے ہیں ، اس لیے وہیل کو ہر منٹ میں سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر آنا پڑتا ہے۔

Share With:
Rate This Article