19 April 2024

Homeتازہ ترینغزہ جنگ کیخلاف سعودی عرب میں اسلامی ممالک کا غیر معمولی اجلاس

غزہ جنگ کیخلاف سعودی عرب میں اسلامی ممالک کا غیر معمولی اجلاس

غزہ جنگ کیخلاف سعودی عرب میں اسلامی ممالک کا غیر معمولی اجلاس

غزہ جنگ کیخلاف سعودی عرب میں اسلامی ممالک کا غیر معمولی اجلاس

ریاض: (سنو نیوز) غزہ میں جاری شدید تنازع کے درمیان ریاض میں دنیا بھر کے مسلم ممالک کے رہنماؤں کے اجلاس میں سعودی عرب نے فوری جنگ بندی اور مسئلہ فلسطین کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے غزہ پر حملے فوری بند کرنے جبکہ اسی دوران ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اسرائیل کو تیل کی سپلائی روکنے کا مطالبہ کیا۔ کچھ ممالک نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات ختم کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم اس تجویز کی مخالفت بھی ہوئی۔ اس اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے علاوہ عرب لیگ ممالک کے رہنما بھی شامل ہیں۔

یہ غیر معمولی اسلامی عرب اجلاس غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل اور امریکا پر دباؤ ڈالنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بھی پہنچ گئے ہیں۔ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا جس میں کم از کم 1200 اسرائیلی مارے گئے۔ اس کے جواب میں اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کر رہا ہے اور اس کی فوج غزہ میں زمینی کارروائیاں کر رہی ہے۔

حماس کے مطابق غزہ میں اب تک 11 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تقریباً 4500 بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب میں ہونے والے اس اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بھی شرکت کی ہے۔ گذشتہ 11 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ایرانی صدر سعودی عرب پہنچے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، شام کے صدر بشار الاسد، اردن کے بادشاہ، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور دنیا بھر کے ممتاز مسلم رہنما شریک ہوئے۔ انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو اور کرغزستان کے صدر سادی جاپاروف بھی اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس اجلاس میں دنیا کے تقریباً تمام اسلامی ممالک کے رہنما شریک ہیں۔

محمد بن سلمان نے کیا کہا؟

اس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ سعودی عرب فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کا ذمہ دار اسرائیلی قابضین کو ٹھہراتا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا اورکہا کہ سعودی عرب غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملوں اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔

محمد بن سلمان نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر مغربی ممالک کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ میں ‘دہرے معیار’ کا مسئلہ اٹھایا۔ شہزادہ سلمان نے کہا کہ ہمیں ایک انسانی المیے کا سامنا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی اسرائیل کو روکنے میں ناکامی کا ثبوت ہے۔ یہ دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ غزہ میں تشدد فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور یرغمال بنائے گئے لوگوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے 1967 ء کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست بنائی جائے اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت بنے۔

‘میں غزہ کا فوجی حل قبول نہیں کرتا:محمود عباس

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا کہ فلسطینیوں کو ‘نسل کشی کا سامنا ہے جس میں تمام سرخ لکیریں عبور کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فلسطینیوں کے خلاف حملے روکنے اور غزہ تک امدادی سامان پہنچانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ میں کسی فوجی یا سیکورٹی حل کو قبول نہیں کریں گے۔

غزہ پر اسرائیل کا حملہ تاریخ کا سب سے بڑا جرم: ایرانی صدر

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کا حملہ تاریخ کا سب سے بڑا جرم ہے۔انہوں نے اسرائیل کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے اسلامی ممالک سے اسرائیل کو تیل کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ رئیسی نے کہا کہ اسرائیل کی مخالفت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، ہم اسرائیل کے خلاف احتجاج کے لیے حماس کے ہاتھ چومتے ہیں۔

جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے رئیسی نے کہا کہ “غزہ پر اندھا دھند بمباری بند ہونی چاہیے اور غزہ کا محاصرہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔” غزہ میں ہونے والے جرائم کا ذمہ دار امریکا ہے اور وہ اس کا کمانڈر ہے، اسرائیل امریکا کا ناجائز بچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے اس علاقے میں بحری بیڑے تعینات کر رکھے ہیں اور ایسا کر کے وہ غزہ کے لوگوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں شریک ہو گیا ہے۔

ریاض روانگی سے قبل ایرانی صدر رئیسی نے کہا تھا کہ ’’امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی اجازت نہیں دی اور وہ جنگی زون کو بڑھا رہا ہے‘‘۔ ریاض پہنچنے سے پہلے ہی رئیسی نے غزہ میں جاری تنازع کے بارے میں میڈیا سے تبصرہ کیا۔ رئیسی نے کہا تھا کہ اب اس جدوجہد کے بارے میں کچھ کرنے کا وقت ہے، بولنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “غزہ الفاظ کا میدان نہیں ہے، یہاں کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے، آج اسلامی ممالک کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔”

ریاض جانے سے قبل رئیسی کا کہنا تھا کہ ’توقع ہے کہ عالم اسلام کے رہنما فلسطین کے مسئلے پر کوئی ٹھوس فیصلہ کریں گے، یہ اس وقت دنیا کا سب سے اہم مسئلہ ہے، اس فیصلے پر پوری طرح عمل کیا جائے گا‘۔

‘یروشلم ہماری سرخ لکیر ہے: ترک صدر

ترک صدر ایردوان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہسپتالوں، مساجد، سکولوں پر وحشیانہ حملے ہو رہے ہیں۔ یروشلم مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ یروشلم جسے امن کا شہر کہا جاتا ہے، اور دیگر تمام فلسطینی علاقے اپنے پرانے وقتوں میں واپس آجائیں۔”انہوںنے کہا کہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے والی حماس کا قابضین سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ شرم کی بات ہے کہ مغربی ممالک جو ہمیشہ انسانی حقوق اور آزادی کی بات کرتے ہیں، فلسطین میں ہونے والی نسل کشی پر خاموش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز مختص کرے۔ اسرائیل کو غزہ میں ہونے والی تباہی کا معاوضہ دیا جائے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق الجزائر اور لبنان سمیت بعض ممالک نے غزہ میں تباہی کے ردعمل میں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو تیل کی سپلائی روکنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے علاوہ عرب لیگ کے بعض ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں ان سے بھی کہا گیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات توڑ دیں۔

تاہم متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت کم از کم تین ممالک نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر دیے۔ اے ایف پی نے یہ اطلاع سفارتی ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ اسرائیل اور اس کے اہم حامی امریکا نے اب تک جنگ بندی کے تمام مطالبات اور امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔

Share With:
Rate This Article