21 February 2024

Homeپاکستانملک بھر میں 6 شدت کا زلزلہ، لوگوں میں خوف و ہراس

ملک بھر میں 6 شدت کا زلزلہ، لوگوں میں خوف و ہراس

Earthquake Today: 6.0 magnitude quake jolts parts of Pakistan

ملک بھر میں 6 شدت کا زلزلہ، لوگوں میں خوف و ہراس

اسلام آباد: (سنو نیوز) اسلام آباد لاہور اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے کوہاٹ، سرگودھا، ایبٹ آباد، خوشاب، چارسدہ اور دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔

اس کے علاوہ ڈی آئی خان، بنوں، ہنگو، دیامر، پارا چنار، منڈی بہاءالدین، بھکر، نوشہرہ، مظفرآباد، وادی نیلم آزاد کشمیر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، شیخوپورہ، پاکپتن اور گوجرانوالہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز کوہ ہندوکش افغانستان تھا، زلزلہ 213 کلو میٹرکی گہرائی میں آیا۔ زلزلے کے باعث کسی جانی و مالی نقصان کی کوئی اطلاع تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ملک بھر میں شدید زلزلہ، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے

یاد رہے زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔

زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔ زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے۔

پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

Share With:
Rate This Article