Homeتازہ ترینفیس بک اور انسٹا گرام میں سال 2024 کی پہلی بڑی اپ ڈیٹ

فیس بک اور انسٹا گرام میں سال 2024 کی پہلی بڑی اپ ڈیٹ

Meta announced that it is expanding its youth safety efforts by rolling out new settings for teen Facebook and Instagram users

فیس بک اور انسٹا گرام میں سال 2024 کی پہلی بڑی اپ ڈیٹ

لندن:(ویب‌ ڈیسک) میٹا کی جانب سے دنیا کی مشہور ترین ایپ بارے فیس بک اور انسٹا گرام میں سال 2024 کی پہلی بڑی اپ ڈیٹ کی گئی ہے، میٹا کمپنی کی طرف سے فیس بک اور انسٹا گرام کے نوجوان صارفین کے تحفظ کیلئے نئے ٹولز متعارف کرائے گئے ہیں۔

فیس بک اور انسٹا گرام کی سرپرست کمپنی نے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ فیس بک اور انسٹا گرام استعمال کرنے والے نوجوانوں کے تحفظ کیلئے نئی پالیسیوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔

نئی پالیسیوں کے تحت 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے اور ایٹنگ ڈس آرڈرز جیسے حساس مواد تک سرچ اور ایکسپلور جیسے فیچرز کے ذریعے رسائی زیادہ مشکل ہو جائے گی۔

میٹا کمپنی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ تمام نوجوانوں کے فیس بک اور انسٹا گرام اکاؤنٹس کی سیٹنگز کو تبدیل کرکے حساس مواد تک رسائی کو مشکل بنایا جائے گا۔

کمپنی کیجانب سے کہا گیا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کو ہماری ایپس میں محفوظ اور ان کی عمر کے مطابق مناسب مواد میسر حاصل ہو، کمپنی کا کہنا ہے کہ کم عمر صارفین کو اضافی تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

آئی فونز صارفین کیلئے خوشخبری، ایپل نے پیسے دینا شروع کردیے

رپورٹ کے مطابق اگر کوئی کم عمر صارف ایسے اکاؤنٹ کو فالو کرتا ہے جو حساس موضوعات پر مبنی پوسٹنگ کرتا ہے، تو وہ پوسٹس ان نوجوانوں کی فیڈ پر نظر نہیں آئیں گی، ان اقدامات پر عملدرآمد آنے والے چند ہفتوں میں کیا جائے گا۔

کمپنی کیجانب سے یہ اقدامات اس وقت کیے جا رہے ہیں جب اسے مختلف ممالک کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، خیال رہے کہ میٹا پر الزام ہے کہ اسکی ایپس سے نوجوان نسل ذہنی صحت کے بحران کا شکار ہو رہے ہے۔

اسی لیے اکتوبر 2023 میں امریکا کی 33 ریاستوں نے میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میٹا کیجانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خطرات کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

یورپین کمیشن کیجانب سے بھی میٹا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یہ واضح کرے کہ بچوں کو غیر قانونی اور نقصان دہ مواد سے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Share With:
Rate This Article