12 April 2024

Homeتازہ ترینپیوتن تاحیات اقتدار میں رہ سکتے ہیں، پھر بھی بڑا اعلان کر دیا

پیوتن تاحیات اقتدار میں رہ سکتے ہیں، پھر بھی بڑا اعلان کر دیا

پیوتن تاحیات اقتدار میں رہ سکتے ہیں، پھر بھی بڑا اعلان کر دیا

پیوتن تاحیات اقتدار میں رہ سکتے ہیں، پھر بھی بڑا اعلان کر دیا

ماسکو: (سنو نیوز) روس میں آئندہ سال صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ صدر ولادیمیر پیوتن نے ایک بار پھر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ 1999 ء سے ملک کی ‘حکومت’ ہیں۔ اگر وہ یہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو وہ 6 سال یعنی 2030ء تک اس صدارت پر فائز رہیں گے۔

پیوتن نے جوزف اسٹالن کے بعد کسی بھی دوسرے روسی حکمران کے مقابلے میں طویل عرصے تک ملک کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوتن دنیا کے 10 سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے منتخب رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

71 سالہ پیوتن روس کے سب سے طاقتور رہنما ہیں۔ اقتدار پر ماسکو کی گرفت کو برقرار رکھنے کے لیے، انہوں نے اپنے وزیر اعظم، دمتری میدویدیف کے ساتھ اہم عہدوں کا تبادلہ کیا، تاکہ صدارتی مدت کو لگاتار دو میعادوں تک محدود کرنے کے قوانین کو نظرانداز کیا جا سکے۔

2020 ء میں ایک متنازع آئینی اصلاحات کا بل منظور کر کے، ولادیمیر پیوتن نے خود کو کم از کم 2036ء تک اقتدار میں رہنے کی راہ ہموار کر لی تھی۔ روس میں صدر کی میعاد چھ سال ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر پیوتن چاہیں تو 2036 ء تک صدر رہ سکتے ہیں۔ اگر وہ اس وقت تک صدر رہتے ہیں تو ان کا دور جوزف سٹالن سے زیادہ طویل ہو گا۔ اس کے باوجود ان کا صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان بہت سے لوگوں کو حیران کر رہا ہے۔ یوکرین کی جنگ سے ان کی شبیہ بہت متاثر ہوئی ہے۔

ماسکو انتظامیہ اور فوج میں ہر جگہ پیوتن کے خاص لوگ بیٹھے ہیں۔ ایسے میں ان کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ منصفانہ انتخابات کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنماؤں کی باتوں اور الزامات کے علاوہ پیوتن کے حامیوں کا خیال ہے کہ ملک میں ان جیسا طاقتور اور بااثر رہنما کوئی اور نہیں ہے۔ خیال رہے کہ فروری 2022 ء میں یوکرین پر حملے کے بعد مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

Share With:
Rate This Article