12 April 2024

Homeتازہ ترینعالمی منڈی: تیل کی قیمتیں 6 ماہ کی کم ترین سطح پر

عالمی منڈی: تیل کی قیمتیں 6 ماہ کی کم ترین سطح پر

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر کر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں/ فائل فوٹو

عالمی منڈی: تیل کی قیمتیں 6 ماہ کی کم ترین سطح پر

لاہور: (ویب ڈیسک) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر کر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں۔

خام تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں 4 فیصد سے زائد کمی سے 73.82 ڈالر فی بیرل ہوگئیں۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں 33 سینٹ کی کمی ہوئی اور 69.05 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی کھپت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے کے سبب پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات میں کمی متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نگران حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اہداف میں تبدیلیوں پر اتفاق

دوسری جانب وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ نگران حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رواں مالی سال کے بجٹ اہداف میں تبدیلیوں پر اتفاق ہوگیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے مالی خسارے کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر اتفاق ہوا ہے، رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں 167 ارب روپے کی کٹوتی کی جائے گی۔

نگران حکومت نے کم کام والے 137 منصوبوں کو روک دینے کا فیصلہ کیا ہے، رواں مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 950 ارب روپے سے کم کر کے 782 ارب روپے کیا جائے گا ، صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبے مکمل طور پر صوبوں کو منتقل کرنے کی یقین دھانی کرائی گئی ہے۔

سیاسی نوعیت کے ایس ڈی جیز منصوبوں کیلئے مزید 30 ارب روپے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سابق اتحادی حکومت نے جانے سے قبل ایس ڈی جیز منصوبوں کیلئے 60 ارب روپے جاری کیے تھے، رواں مالی سال کے اختتام تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر تک بڑھانے کی یقین دہانی بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال 6.34 ارب ڈالر کے قرضوں کو رول اوور کرایا جائے گا، سود کی ادائیگیوں کیلئے مختص رقم 7303 ارب روپے سے بڑھا کر 8627 ارب روپے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، زیادہ سود ادائیگیوں کی وجہ سے بجٹ خسارہ بھی بڑھ گیا ہے، بجٹ اہداف میں تبدیلیوں سے متعلق حتمی منظوری آئی ایم ایف بورڈ سے لی جائیگی۔

ادھر ایس ای سی پی نے مالی سال 2022-23 کی رپورٹ جاری کردی، مالی سال کے دوران 27 ہزار 746 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی، سب سے زیادہ کمپنیاں پنجاب سے 10 ہزار 904 رجسٹرڈ ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے 9264 سندھ سے 2136 اور کے پی سے 538 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، نئی کمپنیوں میں سب سے زیادہ رجسٹریشن رئیل سٹیٹ سیکٹر میں 4527 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، آئی ٹی سیکٹر 4 ہزار 38 کمپنیاں، ٹریڈ سیکٹر 3539 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیمی شعبے 1101 اور ای کامرس میں 1048 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، مالی سال کے دوران 841 کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی، چین کی جانب سے 448 کمپنیوں میں نئی سرمایہ کاری کی گئی۔

امریکہ کی جانب سے 46 جبکہ برطانیہ کی جانب 36 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی گئی، 30 جون تک رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 98 ہزار 805 رہی، گذشتہ مالی سال میں 26 ہزار 502 کمپنیاں رجسٹر ہوئی تھی، نان بینکنگ مالیاتی کمپنیوں کے اثاثوں میں 35.9 فیصد کا ہوا، انشورنس سیکٹر کے ریوینیو میں 34 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

Share With:
Rate This Article