12 April 2024

HomeGazaغزہ جنگ: خان یونس میں گلیوں اور گھروں کے اندر لڑائی جاری

غزہ جنگ: خان یونس میں گلیوں اور گھروں کے اندر لڑائی جاری

غزہ جنگ: خان یونس میں گلیوں اور گھروں کے اندر لڑائی جاری

غزہ جنگ: خان یونس میں گلیوں اور گھروں کے اندر لڑائی جاری

غزہ: (سنو نیوز) غزہ میں حماس پر اسرائیلی فوج کا حملہ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود، یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج کی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فوجی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ تاہم شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اسرائیل نے ایک بار پھر شمالی غزہ میں ٹینکوں سے حملے کیے ہیں جب کہ جنوبی غزہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔ خان یونس میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار اسرائیلی فوجی دستوں کا نشانہ ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس رہنما خان یونس میں چھپا ہوا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کی قیادت خان یونس کی سرنگوں میں چھپی ہو سکتی ہے۔

خان یونس میں گلیوں اور گھروں کے اندر لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج اور حماس کے جنگجو کئی مقامات پر آمنے سامنے ہیں۔ بریگیڈیئر جنرل ڈین گولڈ فوس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ خان یونس میں لڑائی “گھروں اور شافٹوں کے درمیان جاری ہے۔” شافٹ سے اس کا مطلب سرنگوں سے تھا۔گذشتہ شب حماس نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ایک یرغمالی کی بازیابی کے بعد کی صورتحال دکھائی گئی ہے۔ ویڈیو کے آخر میں خون میں لت پت لاش نظر آ رہی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ یرغمال ہے۔ تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یرغمالی کے اہل خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس ‘نفسیاتی جنگ’ چھیڑ رہی ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے جاری منظم لڑائی اسرائیل کو مایوس کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی کونسل میں جنگ بندی کے خلاف امریکہ کے ویٹو کے بعد اسرائیل کے پاس اب لڑائی کے لیے مزید وقت ہو گا۔ جس رفتار سے لڑائی جاری ہے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر سکتا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے میں مزید دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے، جنگ کا خاتمہ اسرائیل کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ ایسا لمحہ کبھی نہیں آئے گا جب اسرائیل یہ کہہ سکے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور اب گھر واپس آنے اور تعمیر نو کا وقت آ گیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعات میں اس سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے۔ اس بار کی جنگ پچھلی تمام جنگوں سے زیادہ شدید اور کئی حوالوں سے مختلف ہے۔ اس وجہ سے کوئی بھی فریق یہ نہیں کہہ سکتا کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔ حماس نہ صرف اسرائیلی علاقوں پر راکٹ فائر کر رہی ہے بلکہ غزہ کی گلیوں میں اسرائیل کے خلاف لڑ رہی ہے اور اسرائیلی فوجیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اسرائیل کے پاس بے پناہ فوجی صلاحیت ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں زمینی، فضائی اور سمندر سے 450 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے لیکن اسرائیل ابھی تک یہ نہیں دکھا سکا ہے کہ وہ حماس کو ایک عسکری تنظیم کے طور پر توڑ سکتا ہے۔ اسرائیل فتح کا دعویٰ کر سکتا ہے لیکن حماس اب بھی ایک عسکری تنظیم کی طرح لڑ رہی ہے۔ اس سے وہ اسرائیلی عوام مایوس ہو سکتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہو۔

اسرائیل نے اس جنگ میں فتح کا بار بہت بلند قرار دیا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم اور دیگر کمانڈروں نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کے بعد ہی مرے گا۔ اسرائیل حماس کو نہ صرف فوجی طاقت بلکہ سیاسی طاقت کے طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن حماس کا نظریہ اب کچھ فلسطینیوں کا بھی حصہ ہے، اس لیے یہ مقصد کسی حد تک ناممکن

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ رات حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کئی فضائی حملے کیے ہیں۔ نشانہ بننے والے اہداف میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے آپریشنل مراکز شامل تھے۔ فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ رات لبنان سے اسرائیل کی جانب کئی پروجیکٹائل بھی فائر کیے گئے۔

فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کی جانب سے جن ٹھکانوں سے یہ حملے کیے گئے انہیں فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ دو ماہ قبل غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حزب اللہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجی اہداف پر حملے کر رہی ہے۔ تاہم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حملے محدود رہے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی غزہ کے خان یونس میں اسرائیلی ٹینک آہستہ آہستہ خان یونس کے مرکزی علاقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خان یونس میں گلیوں اور گھروں کے اندر لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اسے غزہ میں اپنی دو ماہ کی فوجی مہم کے دوران سخت ترین لڑائیوں کا سامنا ہے۔ خان یونس کی زیادہ تر آبادی ساحلی علاقوں یا رفح بارڈر کی طرف بھاگ گئی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے دو فوجی جمعے کی رات ایک یرغمالی کو بچانے کی کوشش کے دوران شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس یرغمال کو آزاد نہیں کیا جا سکا۔

Share With:
Rate This Article