19 April 2024

HomeGazaامریکی انتباہ کے باوجود رفح پر اسرائیلی فضائی حملے

امریکی انتباہ کے باوجود رفح پر اسرائیلی فضائی حملے

Israel Airstrikes Hit Gaza Bordertown of Rafah

امریکی انتباہ کے باوجود رفح پر اسرائیلی فضائی حملے

غزہ: (ویب ڈیسک) امریکا کی جانب سے رفح پر کسی بھی اسرائیلی زمینی حملے کی حمایت نہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیلی فوج نے شہر کے رہائشی علاقے پر فضائی حملہ کیا۔

چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ جنوبی غزہ کے شہر رفح پر غیر منصوبہ بند فوجی حملہ ایک ’تباہی‘ کا باعث بنے گا۔اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں سے بھاگنے والے فلسطینیوں نے رفح میں اس بیریکیڈ کے جنوب میں واقع ایک اسکول میں بچوں کے لیے شب معراج کی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔

امریکی موقف اسرائیلی وزیر اعظم کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ انہوں نے فوج کو رفح میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ رفح غزہ کی پٹی کا سب سے جنوبی مقام ہے اور اس کی سرحدیں مصر سے ملتی ہیں اور غزہ کے 20 لاکھ افراد میں سے نصف سے زیادہ اس شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

جنگ کی نگرانی کرنے والی تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس شہر میں فلسطینی پناہ گزین ابتر حالات میں رہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح ہوائی حملوں کے علاوہ اسرائیلی ٹینکوں نے اس علاقے میں اہداف پر فائرنگ بھی کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے 55 سالہ عماد، جو چھ بچوں کا باپ ہے، کے حوالے سے کہا: ہمارا سب سے بڑا خوف زمینی حملہ تھا۔ بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ہماے پیچھے سرحدی باڑ اور سامنے بحیرہ روم ہے، ہم کہاں جائیں؟

رفح کے قریب خان یونس شہر میں جنگ جاری ہے۔7اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کی مسلسل بمباری سے شمالی اور وسطی غزہ کا ایک بڑا حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دریں اثناء عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس گذشتہ شب ریاض میں منعقد ہوا۔ اس ملاقات میں ایک بار پھر فوری اور دیرپا جنگ بندی پر زور دیا گیا۔ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی فلسطینی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان آج ایک بار پھر لبنان کا دورہ کرکے اپنے اتحادیوں کے ساتھ علاقائی ملاقاتوں کا آغاز کریں گے۔ بائیڈن نے غزہ جنگ میں اسرائیل کے فوجی ردعمل کو “ضرورت سے زیادہ” قرار دیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں اسرائیل کے فوجی ردعمل کو “ضرورت سے زیادہ” قرار دیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ دشمنی کے مستقل خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ امریکی صدر کی اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف تازہ ترین سخت تنقید ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جو بائیڈن نے مزید کہا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد میں اضافے کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں وقفہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا۔

حماس کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 100 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی راکٹ اور توپ خانے کے حملے اور ڈرون حملے ایمبولینسوں اور امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دیتے۔

اسرائیلی آپریشن 7 اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے میں تقریباً 1200 افراد مارے گئے۔ اس حملے میں فلسطینی عسکریت پسندوں نے 253 کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔ غزہ میں حماس کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 28 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

Share With:
Rate This Article