Homeالیکشن 2024الیکشن 2024ء اور پنجاب کی خواتین کا کردار

الیکشن 2024ء اور پنجاب کی خواتین کا کردار

Election 2024 and the role of women in Punjab

الیکشن 2024ء اور پنجاب کی خواتین کا کردار

سنو الیکشن سیل:(رپورٹ، علی فراز ڈوگر) الیکشن شیڈول کا اعلان ہوتے ساتھ ہی پاکستان بھر بالخصوص پنجاب میں سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں اور خاندان سیاسی میدان میں کودنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

پنجاب بھر کے تمام ضلعوں ، قصبیوں اور چھوٹے بڑے دیہاتوں میں سیاسی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں ۔تمام علاقائی سیاسی گروپس اور جماعتیں اپنے انتخابی الائنس بنانے میں مصروف ہیں ۔ الیکشن شیڈول کے شروع ہوتے ساتھ ہی پنجاب کی خواتین کی بڑی تعداد انتخابی دنگل میں کودنے کو تیار بیٹھی ہیں ۔آج سے کچھ سال پہلے پنجاب میں عورت کا سیاست میں کوئی خاص مقام نہیں تھا ۔ خواتین نہ تو سیاست میں دلچسپی رکھتی تھیں اور نہ ہی انتخابات کی میں حصہ دار کی قائل تھیں ۔

آج کا پنجاب ماضی سے مکمل طور پر مختلف نظر آرہا ہے ۔ آج پنجاب میں خواتین کی بہت بڑی تعداد جنرل نشستوں اور براہ راست الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کی جنرل نشستوں 297 پر 437 خواتین نے براہ راست الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں ۔

سوشل میڈیا اور دوسرے جدید ذرائع ابلاغ نے خواتین کے لیے سیاست کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ماضی کی نسبت آج سیاست خواتین کے لیے مشکل کام نہیں سمجھا رہا ۔ ماضی میں کئی خواتین نے اپنے خاندان کے مردوں پر مشکل وقت پر سیاست کے میدان کو کندھا فراہم کیا ۔

ذوالفقار علی بھٹو کی اسیری کے دوران بیگم نصرت بھٹو نے جواں مردی سے سیاست کے میدان کو سنبھالے رکھا ۔اسی طرح 1999 ء کے مارشل کے وقت بیگم کلثوم نواز ، پاکستان مسلم لیگ کی رہبر بنی تھیں ۔ آج اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک خواتین سیاست میں فعال نظر آرہی ہیں ۔

اٹک سے ایمان طاہر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر مخالفین کے مقدمقابل کھڑی نظر آرہی ہیں۔اسی طرح مری سے مہرین انور راجہ ، جہلم سے حبا فواد مخالفین کو سیاسی میدان میں للکاررہی ہیں ۔ دریائے چناب کے سنگم پر آباد شہر گجرات کی خواتین بھی سیاسی میدان میں نظر آرہی ہیں ۔ بیگم سمیر االہی ٰاور بیگم چودھری پرویز الٰہی اپنے مخالفین کے لیے خوف کی علامت بنی ہوئی ہیں ۔ حافظ آباد سے سائرہ افضل تارڑ اپنے مخالفین کے لیے خوف کی علامت سمجھی جارہی ہیں ۔

اس طرح کے کچھ مناظر اقبال کے شہر سیالکوٹ میں نظر آرہے ہیں ۔ جہاں پر ریحانہ امتیاز ڈار نے اپنے بیٹے عثمان ڈار کی سیاست سے رخصتی کے بعد میدان سیاست سنبھالا ہوا ہے ۔ داتا کی نگری سے مریم نواز ، صنم جاوید اور ڈاکٹر یاسمین راشد 2024 ء کے انتخابی معرکہ کی مضبوط امیدوار گردانی جارہی ہیں ۔ بلھے شاہ کے ضلع سے ناصرہ میو اور بیگم مزمل مخالفین کے لیے مشکلات پیدا کرنے جارہی ہیں ۔

فیصل آباد سے مشہور سیاست دان الیاس جٹ کی بھتیجی سدرہ سعید اپنے پہلے انتخابی معرکہ کے لیے کمر کس رہی ہیں ۔ چینوٹ سے سیلم بی بی بھروانہ اپنے سیاسی حریفوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہیں ۔ جھنگ سے سابقہ ایم این اے غلام بی بی بھروانہ اور سیدہ اصغری امام انتخاب کے لیے تیار نظر آرہی ہیں ۔

جنوبی پنجاب میں بھی خواتین کی بڑی تعداد 2024 ء کے الیکشن کے لیے میدان میں نظر آرہی ہیں۔ وہاڑی سے مشہور سیاسی شخصیت تہمینہ دولتانہ میدان میں سیاسی حریفوں کو ناکوں چنے چبوانے کے لیے تیار کھڑی ہیں ۔ نوابزادہ نصراللہ خان کے شہر مظفر گڑھ سے نادیہ فاروق کھر اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر مضبوط امیدوار سمجھی جارہی ہیں ۔ کوٹ ادو سے بیگم شبیر قریشی ساسی میدان میں مخالفین کو للکاررہی ہیں ۔

ملتان سے مہر بانو قریشی اپنے خاندانی سیاسی مخالف گیلانی خاندان کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتی ہیں۔ ڈیرہ غازی خان سے زرتاج گل لغاری اور کھوسہ خاندان کے حریف کے طور پر سامنے ہیں ۔ پنجاب کے ایک اور دور دراز کے علاقے راجن پور سے بیگم جعفر لغاری ، ڈاکٹر مینا لغاری انتخاب کی تیاریوں میں مصروف نظر آرہی ہیں ۔

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پنجاب کی تاریخ میں بے شمار خواتین ملیں گئی جنہوں نے سیاسی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ قیام پاکستان سے قبل پنجاب میں بیگم شاہنواز خان نے تحریک پاکستان کے لیے خواتین کو متحرک کیا ۔ بیگم شاہنواز خان نے 1947 ء میں خضر حیات ٹوانہ کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد پنجاب کی خواتین نے سیاست میں بھرپور کردار ادا کیا ۔1970 ء کے پہلے جنرل الیکشن میں پنجاب سے قومی اسمبلی کی نشست این ڈبلیو 49 لائل پور سے بیگم زرینہ خان نے الیکشن لڑا اور 11ہزار 8 سو 6 ووٹ حاصل کیے ۔ اسی الیکشن میں گجرات سے معراج بیگم نے پی ایم ایل کونسل سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا اور دوسرے نمبر پر رہی ۔ انہوں نے 23783 ووٹ حاصل کئے۔1997ء کے دوسرے عام اور تاریخ کے متنازع الیکشن میں پنجاب سے کسی بھی خواتین نے براہ راست الیکشنز میں حصہ نہیں لیا تھا ۔

1985 ء کے غیر جماعتی الیکشن میں صورتحال 1977 ء کے الیکشن سے بالکل متضاد تھی ۔ اس الیکشن میں کافی خواتین انتخابی میدان میں داخل ہوئیں ۔ جن میں ہیر رانجھا کی سر زمین جھنگ سے پنجاب کے مشہور سیاست دان کرنل (ر) عابد امام کی صاحبزادی سیدہ عابدہ حسین تھی جو براہ راست الیکشن میں حصہ لے کر 1985 ء کی اسمبلی ممبر منتخب ہوئی تھی ۔اس کے علاوہ فیصل آباد سے شکیلہ بیگم اور سکینہ بیگم نے انتخاب میں حصہ لیا تھا ۔

جنرل ضیاء کی آمریت کے طویل عرصے کے بعد 1988 ء میں ہونے والے جنرل الیکشن میں پنجاب کے ضلع جھنگ سے سیدہ عابدہ حسین اک دفعہ پھر انتخابی میدان کی امیدوار بنیں لیکن ماضی کے برعکس 1988 ءمیں اپنے روایتی حریف شاہ جیونہ کے گدی نشین مخدوم فیصل سے الیکشن ہار گئیں ۔

1990 ء اور 1993ء کے الیکشن میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی تہمینہ دولتانہ انتخابی میدان میں مخالفوں کو چیلنج کیا ۔ انہی الیکشنز میں سید عابدہ حسین ایک دفعہ پھر الیکشن کا حصہ بنی ں مگر کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکیں۔

1997 ء کے الیکشن میں پاکستان سے بھر سے 34 خواتین نے الیکشن کے میدان میں اپنے مخالفوں کو چیلنج کیا ۔ لیکن پورے ملک سے صرف 6 خواتین ہی اپنی نشستوں کو بچا سکیں۔ پنجاب سے ایک دفعہ پھر جھنگ کی سیدہ عابدہ حسین اور وہاڑی کی تہمینہ دولتانہ انتخابات جیتنے میں کامیاب رہیں ۔

سابق صدر اور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے 2002 ء میں ایل ایف او کے تحت قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں متعارف کروائی جس کی وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد سیاست کی طرف راغب ہوئی ۔

2002 ء کے الیکشن میں پنجاب بھر سے بڑی تعداد میں خواتین نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا جن میں حنا ربانی کھر مظفر گڑھ سے ، تہمینہ دولتانہ نے وہاڑی سے ، ایمان طاہر نے اٹک سے ، صائمہ اختر بھروانہ نے جھنگ ، روبینہ شاہین وٹو اوکاڑہ سے امیدوار بنیں ۔ اس کے علاوہ بھی خواتین کی بڑی تعداد نے الیکشن میں حصہ لیا تھا ۔

2008ء کے الیکشن میں ایک دفعہ پھر پنجاب سے خواتین کی بڑی تعداد نے انتخابی میدان کا حصہ بنیں جن میں فردوس عاشق اعوان سیالکوٹ سے ، نغمہ مشتاق لنگاہ ملتان سے ، ثمینہ خالد گھرگی لاہور سے الیکشن کا حصہ بنیں ۔ جن میں کافی تعداد میں خواتین نے الیکشن میں کامیابی سمیٹی مثلا صائمہ اختر بھروانہ ، اور سمیرا ملک ۔

مئی 2013 ء کے الیکشن میں بھی پنجاب کے مختلف حصوں سے خواتین کی بڑی تعداد الیکشن کی طرف راغب ہوئیں ۔ خواتین کی بڑی تعداد نے مخالفین کو شکست سے دو چار کیا ۔ جن میں اوکاڑہ سے ثمینہ نور کھرل ، خوشاب سے سمیرا ملک ، ملتان سے نغمہ مشتاق وغیرہ کامیاب ٹھہریں ۔ ان کے علاوہ پی ٹی آئی کی مشہور سیاسی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی انتخابی میدان میں قسمت آزمائی ۔

2017ء میں الیکشن ایکٹ 2017 ء کے تحت تمام رجسٹر پارٹیوں کوپابند کردیا گیا ۔ تمام پارٹیوں کی جنرل نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹیں خواتین کو دی گئیں ۔ 2017 ء کے الیکشن ایکٹ کی وجہ سے 2018ء کے انتخاب میں بڑی تعداد میں خواتین نے الیکشن عمل کا حصہ بنیں ۔ جن میں جھنگ سے سیدہ صغریٰ امام، چینوٹ سے سیلم بی بی، جھنگ سے عالیشہ افتخار بلوچ اور غلام بی بی ، اوکاڑہ سے جگنو محسن ، سیالکوٹ سے فردوس عاشق اعوان نے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا ۔

خواتین کی بڑی تعداد 2018 ء کے انتخابات کے تحت ممبر قومی و صوبائی اسمبلی پنجاب بنیں  جن میں مشہور خاتون صحافی سیدہ جگنوہ محسن ، غلام بی بی بھروانہ اور سیلم بی بی وغیرہ شامل تھیں۔2013 ء اور 2018 ء کے الیکشنز میں پنجاب میں خواتین کی اکثریت نے انتخابات میں ووٹوں کے ذریعے حصہ ڈالا۔ پنجاب کے بڑے شیروں اور اربن سٹیز ملتان ، لاہور ، فیصل آباد اور ساہیوال وغیرہ سے خواتین کی بہت بڑی تعداد انتخابات میں ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو چنا ۔

پنجاب میں ٹوٹل ووٹوں اور ابادی کا نصف حصہ ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ خواتین کی اکثریت انتخابی عمل کا حصہ نہی بن پا رہی ں۔آئیے آپ کو اس کی چند ایک وجوہات بتاتے ہیں۔

روایات و کلچر :

خواتین کی سیاست میں حصہ نہ لینے کی بڑی وجہ کلچر اور فرسودہ روایات ہیں ۔ جس کے تحت سمجھا جاتا ہے کہ سیاسی عمل پر صرف مردوں کا حق ہے ۔

مردوں کا معاشرہ :

پنجاب میں خواتین کا ماضی میں الیکشن میں حصہ نہ لینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مردوں کے اثر و رسوخ والا معاشرہ ہے ۔ ہڑپہ کی تہذیب سے کے کر آج تک پنجاب کی مردوں کی حکمرانی رہی ہے ۔

خاندانی بندشیں:

خواتین کا انتخاب کا حصہ نہ لینے کی ایک اور بڑی وجہ خاندانی بندشیں بھی ہیں ۔ جس کے تحت بہت سے علاقوں میں خواتین کو الیکشن عمل کا حصہ بنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔

مضبوط جمہوری معاشرے اور حکومت کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کی بڑی اکثریت کو انتخابات اور انتخابی عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ مقبول جمہوری معاشرہ بن سکے ۔ اس کے لیے ضروری ہے قانون سازی کی جائے کہ خواتین کی 25 فیصد جنرل نشستوں پر نمائندگی ہو ۔ تمام پارٹیوں خاص حد تک اپنی پارٹی ٹکٹیں خواتین کے لیے الاٹ کریں ۔ عوام میں شعور کے لیے سمیناز اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ عوام اور خواتین انتخابی عمل کا لازمی حصہ بن سکے ۔

انٹرنیٹ ، تعلیمی شعور اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے آنے کے بعد خواتین میں شعور دن بدن بڑھ رہا ہے ۔ نیٹ اور سماجی رابطے کی وجہ سے بڑی تعداد میں خواتین انتخابات کا حصہ بن رہی ہیں۔ جس کی واضح مثال 2024ء کے الیکشن کے عمل میں خواتین کی شمولیت ہے۔

Share With:
Rate This Article