19 April 2024

Homeتازہ ترینآرمینیا اور آذربائیجان کی امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں

آرمینیا اور آذربائیجان کی امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں

آرمینیا اور آذربائیجان کی امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں

آرمینیا اور آذربائیجان کی امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں

باکو: (سنو نیوز) آرمینیا اور جمہوریہ آذربائیجان کا کہنا ہے کہ وہ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف بڑھیں گے اور ایک پہلے قدم میں وہ ان لوگوں کا تبادلہ کریں گے جو ناگورنو کاراباخ میں حالیہ جنگ کے دوران پکڑے گئے تھے۔

دونوں پڑوسی ممالک کئی دہائیوں سے ناگورنو کاراباخ کے تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں۔ جمعرات کی شب جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں، کہا گیا ہے کہ ہم نے امن کے حصول کا ایک “تاریخی موقع” دیکھا ہے۔ دونوں ممالک نے کہا کہ وہ اس سال کے آخر تک امن معاہدے پر دستخط کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اسے آرمینیا اور آذربائیجان کے تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کے باہمی احترام پر مبنی جامع امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کام کریں گے۔

باکو نے 32 آرمینیائی فوجیوں کو جبکہ یریوان نے “خیر سگالی کے اشارے” کے طور پر دو فوجیوں کو رہا کیا ہے۔ دیگر اقدامات میں آرمینیا کی جانب سے اپنی امیدواری واپس لے کر اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس 29 کی میزبانی کی آذربائیجان کی کوششوں کی حمایت شامل ہے۔ جمہوریہ آذربائیجان نے موسمیاتی مذاکرات سے متعلق علاقائی گروپ میں آرمینیا کی امیدواری کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ معاہدہ آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی حکومت کے درمیان بات چیت کے دوران طے پایا۔ علیئیف اور پشینیان نے کئی بار یورپی یونین، امریکا اور روس کی ثالثی میں معمول کی بات چیت میں حصہ لیا ہے۔

یہ مذاکرات حالیہ مہینوں میں اس وقت روکے گئے جب آذربائیجان نے مغربی ممالک پر جانبداری کا الزام لگایا اور امریکا ، اسپین میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اکتوبر کے آخر میں ایران میں دوبارہ شروع ہوئے۔

ناگورنو کاراباخ خطہ جو دونوں ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں تک تنازعات کا شکار رہا، ستمبر میں آذربائیجان کے حملے کے بعد ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں 100 ہزار سے زیادہ آرمینیائی علاقے سے فرار ہو گئے۔ اس علاقے کو بین الاقوامی سطح پر جمہوریہ آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن اس کے بڑے علاقے تین دہائیوں تک آرمینیائی کنٹرول میں تھے۔

Share With:
Rate This Article