12 April 2024

Homeپاکستانپی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گر گئی

پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گر گئی

پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گر گئی

پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گر گئی

لاہور: (سنو نیوز) پی ٹی آئی کے جوائنٹ سیکریٹری سید نعمان شاہ نے پارٹی سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پالیسیوں اور سانحہ 9 مئی کےبعد میرا اب اس جماعت کے ساتھ چلنا مشکل ہو چکا ہے، اس لیے میں نے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جوائنٹ سیکریٹری تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نعمان شاہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن جیسی جعل سازیوں سے پی ٹی آئی کو زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ اب یہ پولیٹیکل پارٹی وینٹی لیٹر پر آ گئی ہے۔ پارٹی کے سابق چیئرمین عمران خان نے قوم اور نوجوانوں کو گمراہ کیا اور اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں بند خواتین کارکنوں سے ملنے کیلئے کسی کمیٹی نے خدمات سرانجام نہیں دیں۔ جبکہ بیرسٹر گوہر کو پاکستان تحریک انصاف کا چیئرمین نامزد کرنے سے کارکنوں میں شدید مایوسی ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق جوائنٹ سیکرٹری نعمان شاہ نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار اورفرح گوگی کو پشت پناہی فراہم کر کے کرپشن کو فروغ دیا گیا۔چیئرمین کے غلط فیصلوں کی وجہ سے کارکن اس وقت شدید مشکلات میں ہیں۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد عمران خان کے ساتھ چلنا مشکل ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف بانی رہنما اکبر ایس بابر نے بھی گذشتہ دنوں ایک بیان میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن نکاح کی تقریب کے طرح تھے،یہ الیکشن نہیں سلیکشن تھی جس میں چند لوگ شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:

پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن نکاح کی تقریب کے طرح تھے:اکبر ایس بابر

سنونیوز کے پروگرام “سنوٹونائٹ ود سعدیہ افضال “میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی رہنما کاکہنا تھا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں تمام امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔انٹراپارٹی الیکشن میں نہ ہی کوئی ووٹنگ ہوئی اور نہ ہی کوئی ووٹنگ لسٹ تھی ۔یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن تھی جس میں چند لوگ شریک ہوئے۔

اکبر ایس بابر کاکہناتھا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن نکاح کی تقریب کے طرح تھے۔پی ٹی آئی ورکرز اس الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے۔مجھے کسی عہدے کی خواہش نہیں۔ہر الیکشن کا کوئی طریقہ کار ہوتا ،پہلے کاغذات جمع ہوتے۔کاغذات منظور یا مسترد ہوتے توپھر اعلان کیا جاتاہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت بہت سے لوگ اس الیکشن میں حصہ لینے چاہتے تھے،مجھے عہدے کی کوئی لالچ نہیں تھی،عمران خان نے مجھے دو دفعہ سیکریٹری جنرل کے عہدے کی آفر کی تھی لیکن میں نے معذرت کرلی تھی۔میں پرسوں شام کو پی ٹی آئی کے سینٹرل سیکریٹریٹ گیا جہاں میں نے جاکر ان سے کہا کہ آپ مجھے ووٹر لسٹ دیجئے ہمیں الیکشن کا طریقہ کار دیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:

پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن: (ن) لیگ کا الیکشن کمیشن سے نوٹس کا مطالبہ

پی ٹی آئی کے منحرف رہنما کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ الزام لگاتے ہیں کہ آپ پاکستان تحریک انصاف کے ممبر نہیں ہیں،ملک کے تین اداروں نے میری ممبرشپ بحال رکھی ہے،مجھ سمیت دیگر بانیان ارکان الیکشن میں حصہ لینے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں،عمران خان کے فرسٹ کزن مجھے میانوالی سے کہہ رہے تھے کہ میرے لیے کاغذات نامزدگی لے کر آئوں۔

اکبر ایس بابر کے مطابق جب وہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی دفتر گئے تو انہوں نے وہاں جاکر موجود لوگوں سے صرف تین سوالات کیے کہ انہیں کاغذات نامزدگی،ووٹنگ لسٹ اور الیکشن کا طریقہ کار دے دیا جائے جس کے جواب میں انہیں کہا گیا کہ اس طرح کی چیزیں تو وجود ہی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس طرح کا کچھ پی ٹی آئی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا کہ یہ تو محض ایک کاغذی کارروائی ہورہی ہے جو بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کے مطالبے پر کی جارہی ہے،اس کارروائی میں وہی لوگ سیلیکٹ ہوکر سامنے آئیں گے جو پہلے سے سییلکٹ تھے۔

Share With:
Rate This Article