Homeپاکستانحماد اظہر اور صنم جاوید الیکشن کی دوڑ سے باہر

حماد اظہر اور صنم جاوید الیکشن کی دوڑ سے باہر

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر اور کارکن صنم جاوید خان/ فائل فوٹو

حماد اظہر اور صنم جاوید الیکشن کی دوڑ سے باہر

لاہور: (سنو نیوز) پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر اور کارکن صنم جاوید کو انتخابات لڑنے کی اجازت نہ مل سکی۔ الیکشن ٹریبیونل نے حماد اظہر اور صنم جاوید خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا۔

لاہور کے حلقہ این اے 129 سے پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر نے ریٹرنگ افسر کا کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔ ایپلیٹ ٹریبیونل نے سابق وفاقی وزیر کی اپیل مسترد کر دی۔ ایپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے پی ٹی آئی رہنما کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔

ایپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے ہی صنم جاوید کی اپیلوں پر بھی فیصلہ سنایا۔ الیکشن ٹریبیونل نے صنم جاوید کے این اے 119، 120 اور پی پی 150 سے صنم جاوید کے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی۔

اعتراض میں کہا گیا کہ صنم جاوید نے دستخط 21 دسمبر کو کیے جبکہ ریٹرننگ افسر کے سامنے 22 دسمبر کو جمع کروائے گئے، انہوں نے کاغذات نامزدگی میں جوائنٹ اکاؤنٹ ظاہر کیا جبکہ کاغذات میں سنگل اکاؤنٹ ظاہر کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید نے این اے 119، 120 اور پی پی 150 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور

واضح رہے کچھ روز قبل ملک میں بڑھتے دہشتگردی کے واقعات کے بعد الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور کی گئی۔

سینیٹر دلاور خان نے الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد سینیٹ میں پیش کی۔ جس کے متن میں کہا گیا کہ ملک میں سیکیورٹی کے حالات انتہائی خراب ہیں، مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے، ملک کے مختلف علاقوں میں جنوری اور فروری میں موسم سرما اپنی انتہا پر ہوتا ہے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، فروری میں ہونے والے انتخابات کو ملتوی کیا جائے، موزوں وقت تک الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کرے۔ قرارداد اکثریت سے منظور کر لی گئی۔

سینیٹ اجلاس میں 14 ارکان موجود تھے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2013 اور 2018 میں سخت حالات کی دوران الیکشن ہوئے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سینیٹرز نے بھی قرارداد کی مخالفت کی۔ ثمینہ ممتاز زہری نے الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اچانک سے ایسا کیا ہوا کہ قرارداد پیش کر دی گئی۔

ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2024 کے لیے پولنگ اسٹیشنز کی ابتدائی فہرستیں جاری کر دیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے انتخابی حلقے کے حساب سے ابتدائی پولنگ اسٹیشنز کی لسٹیں شائع کی جا چکی ہیں، 11 جنوری تک ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز) کے پاس اعتراضات جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ ابتدائی پولنگ لسٹ پر حلقے کا کوئی بھی امیدوار یا ووٹر اعتراض یا تجاویز جمع کرواسکتا ہے، 12 سے 17 جنوری کے دوران ڈی آر اوز ان اعتراضات یا تجاویز پر فیصلہ دیں گے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق مزید پولنگ اسٹیشنز کی حتمی فہرست عام انتخابات سے 15 روز قبل آویزاں کی جائے گی۔

Share With:
Rate This Article