23 February 2024

Homeپاکستانایف بی آر کا ملازمین کو بنیادی تنخواہیں بطورانعام دینے کا فیصلہ

ایف بی آر کا ملازمین کو بنیادی تنخواہیں بطورانعام دینے کا فیصلہ

فیڈررل بورڈ آف ریونیو نے ہدف سے زائد ٹیکس وصولیاں کرنے پر اپنے افسران و اہلکاروں کوخصوصی انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے

ایف بی آر کا ملازمین کو بنیادی تنخواہیں بطورانعام دینے کا فیصلہ

لاہور:(ویب ڈیسک) ذرائع کے مطابق فیڈررل بورڈ آف ریونیو نے ہدف سے زائد ٹیکس وصولیاں کرنے پر اپنے افسران و اہلکاروں کوخصوصی انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال 2023-24 کی دوسری سہ ماہی اکتوبر تا دسمبر 2023 میں مقررہ ہدف سے زائد ٹیکس وصولیاں کرنے پر ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز اور فیلڈ فارمشنز کے گریڈ ایک تا 21 کے افسران و اہلکاروں کو 2 سے 4 بنیادی تنخواہیں بطور خصوصی انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایف بی آر نے تمام لارج ٹیکس پیئر افسران اور کسٹمز کے فیلڈ آفسز کے سربراہان سے فہرستیں طلب کر لی ہیں۔

دوسری جانب نگران اور سابق پی ڈی ایم حکومتوں کے ادوار میں صرف ایک سال کے دوران پاکستان کے قرضوں میں 12 ہزار 430 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک دستاویز کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق کہ وفاق کا قرضہ نومبر 2023 ء تک بڑھ کر تریسٹھ ہزار 390 ارب روپے تک جا پہنچا۔وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ چالیس ہزار 956 ارب روپے پرپہنچ گیا، جبکہ اس کے غیر ملکی قرضے بڑھ کربائیس ہزار 434 ارب روپے رہے۔

مرکزی حکومت کے قرض میں یہ اضافہ نومبر 2022ء سے نومبر 2023 کے دوران ہوا۔پاکستان کے مرکزی بینک کی دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2023ء ) کے دوران وفاقی حکومت کا قرضہ دو ہزار 549 ارب روپے بڑھا تھا۔

اکتوبر 2023ء کے مقابلے نومبر 2023 ء میں وفاقی حکومت کے قرضے میں 907 ارب روپےکا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق نومبر 2022 ء میں وفاقی حکومت کا قرضہ 50 ہزار 959 ارب روپے تھا جبکہ جون 2023 ء میں وفاقی حکومت کے قرضوں کاحجم 60 ہزار 841 ارب روپے تھا۔

مزید پڑھیں

شناختی کارڈ اور ب فارم بنوانے کا آسان طریقہ متعارف

ادھرجون 2024 ء کے اختتام تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ یہ بات ٹاپ لائن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکو آفیسر محمد سہیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سٹاف سطح کے معاہدے کے بعد کثیر الجہتی شراکت داروں کی جانب سے پاکستان کی معاونت کا سلسلہ جاری ہے، گذشتہ ایک ماہ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں مجموعی طورپر 1.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے ، جو 23 ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں کنٹری رپورٹ آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کے اجلاس کے بعد جاری ہو گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیادوں پر 2.8 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 29 دسمبر 2023 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 8.22 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 4.99 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

Share With:
Rate This Article