23 February 2024

Homeتازہ ترینملک بھر کے ایئرپورٹس پر کورونا کی سکریننگ دوبارہ شروع

ملک بھر کے ایئرپورٹس پر کورونا کی سکریننگ دوبارہ شروع

ایئرپورٹس پر کورونا

ملک بھر کے ایئرپورٹس پر کورونا کی سکریننگ دوبارہ شروع

کراچی:(سنو نیوز) ملک بھر کے ایئرپورٹس پر کورونا کی سکریننگ دوبارہ شروع کر دی گئی ہے، سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ تمام بین الاقوامی فلائیٹس کے دو فیصد مسافروں کی سکریننگ کے احکامات فوری نافذ العمل ہوں گے۔

ملک کے بڑے ائیرپورٹس پر این سی او سی ہدایات کے بعد مسافروں کی کوروناسکریننگ بتدریج شروع ہو گئی ہے، ہدایت کے مطابق ہر فلائٹ کے دو فیصد مسافروں کا ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ ہوگا۔

ایئرپورٹس پر دن میں کم سے کم ایک مرتبہ مسافر لاونجز میں فیومیگیشن کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے، ایئرپورٹس پر عملے کو بارڈر ہیلتھ سروسز اہلکاروں کو ہرممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایات ہیں۔

دوسری جانب دنیا میں کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کے پھیلنے کے سبب پاکستان کو چند دنوں میں امریکا سے فائزر کی نئی کووڈ ویکسین ملنے کی توقع ہے۔

وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا سے کووڈ ویکسین کی 2 لاکھ ڈوزز کی آمد چند دنوں میں متوقع ہے اور نئی فائزر کووڈ ویکسین کی مزید 3 لاکھ ڈوزز بھی اسی مہینے مل جائیں گی، پاکستان میں ابھی کووڈ 19 کے کیسز کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہےکہ فائزر کی نئی ویکسین کووڈ 19 کے نئے ویرینٹس کیخلاف بھی مؤثر ہے، کووڈ ویکسین حجاج کرام اور ہائی رسک لوگوں کو لگائی جائے گی، پاکستان میں ابھی تک نئے ویرینٹ جے این ون کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ۔

خیا ل رہے کہ امریکا، برطانیہ اور بھارت میں کورونا کے نئے ویرینٹ جے این ون کے کافی کیسز سامنے آرہے ہیں، اس نئے ویرینٹ سے بھارت میں اموات بھی ہوئی ہیں جب کہ امریکا میں کورونا کے نئے ویرینٹ سے متاثر افراد کا ہسپتالوں میں داخل ہونا بڑھ گیا ہے۔

مزید پڑھیں

کورونا کا نیا ویرینٹ: بیرون ملک سے آنیوالوں مسافروں کے ٹیسٹ کرنیکا فیصلہ

خیال رہے کہ دوسری جانب طبی ماہرین نے ملیریا سے لڑنے کے لیے ایک سستی ویکسین ڈھونڈ لی ہے۔ ملیریا کی یہ نئی ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی نے تیار کی ہے جو کہ دنیا میں ملیریا کی صرف دوسری ویکسین ہے ۔ اس سے دو سال پہلے، (GSK) نے ملیریا کی ویکسین RTS-S تیار کی تھی۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا کہ ملیریا سے لڑنے میں دونوں ویکسین یکساں طور پر موثر ہیں اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایک ویکسین دوسری سے بہتر ہے۔ تاہم، دونوں ویکسینوں میں بڑا فرق یہ ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین R21 بڑے پیمانے پر تیار کی جا سکتی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی ویکسین بنانے والی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے بھی ملیریا کی اس نئی ویکسین کی سالانہ 100 ملین خوراکیں تیار کرنے کی تیاری کی ہے۔

کمپنی ایک سال میں اسے 20 کروڑ خوراک تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جبکہ ملیریا ویکسین RTS,S کی صرف 1.8 کروڑ خوراکیں اب تک تیار ہیں، عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ملیریا کی نئی ویکسین R21 بیماری سے لڑنے میں ایک ‘اہم اضافی ٹول’ ثابت ہوگی۔

Share With:
Rate This Article