Homeتازہ ترینانڈین ریاست منی پور کی صورتحال کشیدہ، مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

انڈین ریاست منی پور کی صورتحال کشیدہ، مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

Manipur unrest

انڈین ریاست منی پور کی صورتحال کشیدہ، مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

منی پور: (سنو نیوز) بھارت میں آگ اور خون کی ہولی میں مُودی سرکار بد مست، منی پور کی صورتحال قابو سے باہر، مودی کی ہندوتوا نسل کُش پالیسیوں کا پورے ہندوستان میں راج، CRPF کی ریپڈ ایکشن فورس کے 500 جنگجو سپاہیوں کو منی پور کی صورتحال سنبھالنے کیلئے بھیج دیا گیا۔ بی ایس ایف، انڈین آرمی اور دیگر فورسز کے اہلکار پہلے ہی کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے منی پور میں تعینات ہیں۔

موجودہ صورتحال میں CRPF کی کُل 15 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں جو اب تک صورتحال سنبھالنے میں بُری طرح ناکام ہیں۔ سی آر پی ایف کے10 مزید دستے (تقریباً 1,000 سپاہی ) منی پور کیلئے روانہ ہو چکے ہیں۔ مودی سرکار کی منی پور مظاہروں کے دوران تشدد کی کارروائیوں میں اب تک 10 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ حکومتی ایما پر غریب شہریوں پر مسلسل ظلم و زیادتی کے نتیجے میں 80 افراد زخمی ہیں۔

مُودی سرکار کی طرف سے تمام فورسز کو احتجاج کرنے والے شہریوں کو ” گولی مارنے” کا حکم دیدیا گیا ہے۔ منی پور میں آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین منی پور کے زیر اہتمام ایک عوامی ریلی کے پرتشدد ہونے کے بعد انتظامیہ نے گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔

ریاست کے بیشتر اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج اور آسام رائفلز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے قبل فوج نے کہا تھا کہ اس نے ریاستی پولیس کے ساتھ مل کر کئی مقامات پر تشدد کو کنٹرول کیا اور فلیگ مارچ بھی کیا۔

بدھ سے ریاست بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فوری طور پر پانچ دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس بڑے پیمانے پر تشدد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں ان میں کئی مقامات پر مکانات کو آگ میں جلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں کچھ لوگوں کو چورا چند پور میں اسلحہ کی دکان میں گھستے اور بندوقیں لوٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ سے بات کی اور ریاست کی موجودہ صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔ دریں اثنا، منی پور کے وزیر اعلیٰ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے اور ریاست کی تمام برادریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایک ٹویٹ میں تشدد کی خبروں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا، “یہ سیاست کا وقت نہیں ہے۔ سیاست اور انتخابات انتظار کر سکتے ہیں لیکن ترجیح ہماری خوبصورت ریاست منی پور کو بچانا ہونی چاہیے۔”

مشہور باکسر میری کوم نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں آتشزدگی کی کچھ تصاویر شیئر کی ہیں اور لکھا ہے کہ منی پور جل رہا ہے، براہ کرم مدد کریں۔

درحقیقت، 19 اپریل کو، منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا تھا کہ وہ میتی کمیونٹی کو شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کے زمرے میں شامل کرنے کی درخواست پر چار ہفتوں کے اندر غور کرے۔ عدالت نے اپنے حکم میں مرکزی حکومت سے اس پر غور کے لیے سفارش بھیجنے کو بھی کہا تھا۔

اس کے خلاف احتجاج میں آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین، منی پور نے بدھ کو راجدھانی امپھال سے تقریباً 65 کلومیٹر دور چورا چند پور ضلع کے توربنگ علاقے میں ‘قبائلی یکجہتی مارچ’ ریلی نکالی۔ اس ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس دوران تشدد بھڑک اٹھا۔

ضلع چوراچند پور کے علاوہ تمام پہاڑی اضلاع بشمول سیناپتی، اکھرول، کانگ پوکپی، تامینگلونگ، چندیل اور ٹینگنوپال میں اس طرح کی ریلیاں نکالی گئیں۔ ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ہزاروں مشتعل افراد نے توربنگ کے علاقے میں ‘قبائلی یکجہتی مارچ’ ریلی میں حصہ لیا، جس کے بعد قبائلی گروپوں اور غیر قبائلی گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

زیادہ تر پرتشدد واقعات وشنو پور اور چورا چند پور اضلاع میں پیش آئے۔ جبکہ دارالحکومت امپھال سے جمعرات کی صبح تشدد کے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ منی پور میں تشدد سے متاثرہ علاقوں میں موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے فوج کے تعلقات عامہ کے افسر لیفٹیننٹ کرنل مہندر راوت نے کہ صورتحال اب کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے کہا، “فوج اور آسام رائفلز کو 3 اور 4 مئی کی رات کو طلب کیا گیا تھا، جس کے بعد ہمارے جوان مسلسل تشدد سے متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ تقریباً 4000 دیہاتیوں کو تشدد سے متاثرہ علاقوں سے نکال کر مختلف علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے احاطے میں پناہ دی گئی ہے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے فلیگ مارچ کیا جا رہا ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل مہیندر راوت کے مطابق، بھارتی فوج اور آسام رائفلز نے ریاست میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام برادریوں کے نو ہزار سے زائد شہریوں کو نکالنے کے لیے رات بھر امدادی کارروائیاں کیں۔

منی پور کی آبادی تقریباً 28 لاکھ ہے۔ اس میں میتی برادری کے لوگ تقریباً 53 فیصد ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور پر وادی امپھال میں آباد ہیں۔ میتی کمیونٹی کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دینے کی مخالفت کرنے والے قبائل میں، کوکی ایک نسلی گروہ ہے جس میں بہت سے قبائل شامل ہیں۔ بنیادی طور پر منی پور کی پہاڑیوں میں رہنے والے مختلف کوکی قبائل اس وقت ریاست کی کل آبادی کا 30 فیصد ہیں۔

لہٰذا پہاڑی علاقوں میں آباد ان قبائل کا کہنا ہے کہ میتی برادری کو ریزرویشن دینے سے وہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلے سے محروم ہو جائیں گے، کیونکہ ان کے مطابق میٹی کے لوگ زیادہ تر ریزرویشن ہڑپ کر لیں گے۔

منی پور میں تازہ ترین تشدد نے ریاست کے میدانی علاقوں میں رہنے والے میتی کمیونٹی اور پہاڑی قبائل کے درمیان ایک پرانی نسلی کشمکش کو دوبارہ کھول دیا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ “ریاست میں یہ تشدد ایک دن میں نہیں بھڑکا ہے۔ بلکہ کئی مسائل پر قبائلیوں میں ناراضگی پھیل رہی ہے۔ منی پور حکومت نے منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔”

اس کے علاوہ ارونانچل میں کئی قبائل کے زیر قبضہ زمین کو بھی خالی کیا جا رہا ہے۔ اس میں زیادہ تر کوکی گروپ کے لوگ متاثر ہو رہے تھے۔ جہاں سے تشدد شروع ہوا وہ چورا چند پور کا علاقہ ہے جو کوکیوں کا غلبہ ہے۔ چیزوں پر تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

احتجاج کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر میتی برادری کو ایس ٹی کا درجہ دیا جاتا ہے تو ان کی زمینوں کے لیے کوئی تحفظ نہیں بچے گا اور اسی لیے وہ اپنے وجود کے لیے چھٹا شیڈول چاہتے ہیں۔

میتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا کہ ہماری برادری کے لوگ اپنی ریاست کے پہاڑی علاقوں میں جا کر آباد نہیں ہو سکتے۔ جبکہ کوکی اور ایس ٹی کا درجہ رکھنے والے قبائل وادی امپھال میں آکر آباد ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی زمین نہیں بچے گی۔

Share With:
Rate This Article