23 February 2024

Homeتازہ ترینموسم گرما کی آمد میں تاخیر ، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

موسم گرما کی آمد میں تاخیر ، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

Weather in Pakistan

موسم گرما کی آمد میں تاخیر ، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

مئی کے مہینے میں برصغیر پاک وہندکے مختلف حصوں میں شدید گرمی پڑتی ہے اور کئی ریاستوں میں گرمی کی لہر کی وجہ سے درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے اوپر تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ عمل ہر سال مارچ کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔ اپریل سے مئی اور جون تک سورج اپنی پوری شان و شوکت سے جگمگاتا ہے۔ لیکن اس بار گرمی کی لہر ابھی تک نہیں آئی۔

بدلے ہوئے موسم کا یہ انوکھا ریکارڈ اپنے آپ میں درج کیا جا رہا ہے۔ لوگ موسم کے حوالے سے اپنے تجربات بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس بار گرمیوں کا موسم نہیں آئے گا؟

جمعرات اور جمعہ کے روز خیبر پختو نخوا، پنجاب، شمال مشر قی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے جبکہ ملک کے دیگر علا قوں میں موسم خشک رہے گا۔

گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہا ۔ تاہم بالائی خیبرپختونخوا، پنجاب، کشمیر، شمالی بلوچستان اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

سب سے زیادہ بارش گڑھی دوپٹہ 06، کوٹلی، راولاکوٹ 01، نارووال 04، اسلام آباد (گولڑہ 04، بوکرا، ایئر پورٹ 03، زیرو پوائنٹ 02 اور سید پور 01)، راولپنڈی (چکلالہ 03 اور کچہری 02)، مری 02، لسبیلہ 04 م چراٹ 02 اور بالاکوٹ میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ آج ریکارڈکیےگئےزیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کے مطابق چھور40، مٹھی اور نوکنڈی میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈکیا گیا۔

پاکستان سے دباؤ کا بڑا اثر شمالی ہندوستان، شمال مغربی راجستھان اور پنجاب کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے طوفان شدت اختیار کر رہا ہے، بارش اور اولے پڑنے کا امکان ہے۔ موسمی رویے میں تبدیلی کے باعث ماہرین موسمیات مزید تحقیق میں مصروف ہو گئے ہیں۔

انڈین محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مئی کی 9 تاریخ تک ملک کے کسی بھی حصے میں گرمی کی لہر نہیں آئے گی کیونکہ اس بار ‘مغربی گڑبڑ’ لگاتار پیدا ہو رہی ہے، جس کی زد میں ہندوستان کی کئی ریاستیں آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، “اسی طرح کی صورتحال سال 2020 میں بھی ہوئی جب اپریل اور مئی کے مہینوں میں گرمی کی لہر پہلے جیسی نہیں رہی تھی، اب تک 5 مرتبہ ‘ویسٹرن ڈسٹربنس’ پیدا ہو چکا ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت گر چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں، اس مہینے کے وسط تک، اس طرح کے ‘ویسٹرن ڈسٹربنس’ مزید نو بار پیدا ہوں گے۔

ُپاکستان میں تیز ہواؤں اور ژالہ باری کے باعث کھڑی فصلوں(بالخصوس گندم) اور کمزور انفرسٹرکچر کو نقصان کا خطرہ ہے۔ کسان حضرات موسمیا تی پیش گو ئی کو مدنظر رکھتے اپنے معاملات ترتیب دیں۔

موسلا دھار بارشوں سے مانسہرہ، ایبٹ آباد، چترال ، دیر، سوات، کوہستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں 04 مئی اور بلوچستان کے کچھ حصوں اور ڈی جی خان کے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

اس دوران بالائی خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان، کشمیر، مری اور گلیات میں لینڈسلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے،

دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ بارش کے دوران سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Share With:
Rate This Article