23 February 2024

Homeتازہ تریناسرائیل کا فوج کو لبنان کی سرحد پر’ہائی الرٹ’ رہنے کا حکم

اسرائیل کا فوج کو لبنان کی سرحد پر’ہائی الرٹ’ رہنے کا حکم

اسرائیلی فوجی لبنان کی سرحد کے قریب موجود ہیں

اسرائیل کا فوج کو لبنان کی سرحد پر’ہائی الرٹ’ رہنے کا حکم

غزہ: (سنو نیوز) اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے اپنی روزانہ کی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ فوج اسرائیل کی شمالی سرحد پر ’ہائی الرٹ‘ پر ہے۔

حالیہ ہفتوں میں لبنان کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحد پر اسلامی گروپ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ جسے برطانیہ، امریکا اور دنیا کے کئی ممالک میں دہشت گرد تنظیم سمجھا جاتا ہے،نے آج اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایڈمرل ہگاری نے کہا: “گذشتہ روز ہم نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا اور حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں جس میں متعدد شہری زخمی ہوئے، ہم نے اس کے متعدد دہشت گرد سیلوں کو نشانہ بنایا۔”

انہوں نے کہا کہ “ہم اسرائیلی شہریوں پر کسی بھی حملے کا سخت جواب دیں گے، اور ہم آج اور آنے والے دنوں میں کسی بھی صورت حال کا جواب دینے کے لیے شمالی سرحد پر انتہائی ہائی الرٹ پر ہیں۔”

اسرائیل کا اقوام متحدہ پر “حماس کے پروپیگنڈے کو دہرانے” کا الزام:

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ماہرین پر غزہ کی صورتحال کے بارے میں حماس کے پروپیگنڈے کو دہرانے کا الزام عائد کیا ہے اور اسے “افسوسناک” قرار دیا ہے۔ حال ہی میں، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سات ماہرین نے کہا ہے کہ غزہ کے شہریوں کو “نسل کشی” کا شدید خطرہ ہے اور اس کی روک تھام کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔

ان کے بقول اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی ’تباہی‘ کا منصوبہ بنایا ہے اور اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے فوری جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے حماس اور دیگر ملیشیا سے کہا ہے کہ وہ تمام شہری یرغمالیوں کو رہا کریں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق، انہوں نے کہا، “غزہ کی صورتحال بہت تباہ کن ہو چکی ہے۔” خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اس بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ نسل کشی کے واقعے کو تسلیم کرنا صرف اقوام متحدہ سے متعلقہ قانونی ادارے کو ہی کرنا چاہیے۔

اسرائیل نے حماس پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے انسانی امداد کا استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے نے کہا: “موجودہ جنگ حماس کے دہشت گردوں نے اسرائیل کے خلاف شروع کی تھی، جنہوں نے 7 اکتوبر کو بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔ 1400 افراد کو قتل کیا گیا اور 243 بچوں، مردوں اور عورتوں کو اغوا کر کے لے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:طوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطین کی آزادی میں سنگ میل ثابت ہوگا:حسن نصراللہ

Share With:
Rate This Article