23 February 2024

Homeتازہ ترینطوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطین کی آزادی میں سنگ میل ثابت ہوگا:حسن نصراللہ

طوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطین کی آزادی میں سنگ میل ثابت ہوگا:حسن نصراللہ

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ خطاب کر رہے ہیں۔

طوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطین کی آزادی میں سنگ میل ثابت ہوگا:حسن نصراللہ

بیروت: (سنو نیوز) حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا کہ غزہ میں جن کے پیارے شہید ہوئے ان کو مبار ک ہو، وہ جنت میں ہیں، میں شہداء کے اہلخانہ کو سیلوٹ کرتا ہوں۔

حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے بڑا انعام ہے۔ شہدا کبھی نہیں مرتے ۔ شہدا ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ شہدا ہماری طاقت ہیں، جس پر ہمیں فخر ہے۔ فلسطینی قابض فورج سے لڑ رہے ہیں، ہم کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم نہ جھکیں گے اورنہ کسی کے دبائو میں آئیں گے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ فلسطین کی جنگ میں ہزاروں لوگ شہید ہوگئے ہیں۔ فلسطین کے لوگ آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اگر تم اللہ کی راہ میں لڑو گے تو کامیاب ہوجائو گے ۔ مسجد اقصیٰ تک جنگ کا دائرہ کار وسیع ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پوری دنیا کو حسن نصراللہ کے خطاب کا انتظار

ان کا کہنا ہے کہ فخر ہے کہ عراقی اور یمنی براہ راست جنگ میں شامل ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مذمت ہورہی ہے ۔ دنیا میں جن لوگوں نے فلسطین کے لیے احتجاج کیا ، انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو اسرائیل نے غیر قانونی طور پر قید کیا ہوا ہے۔ 1967 ء کے بعد اسرائیل نے فلسطینیوں پر متعدد حملے کیے۔ دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طو رپرآنکھیں بند کرلی ہیں۔ مائوں اور بہنوں کی آواز پر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اردن اور بحرین کا اسرائیل کیخلاف بڑا اقدام

حسن نصر اللہ نے کہا کہ امریکا ، اسرائیل کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے جو غزہ میں معصوم لوگوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ طوفان الاقصیٰ آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کمزوری پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے۔ اسرائیلی حواس باختہ ہو چکے ہیں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل کو اس جنگ میں اربوںڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس کا حملہ فلسطین کے دشمنوں کو کھل کر سامنے لے آیا ہے۔ آنے والے کچھ دن اہم ہوں گے ۔ طوفان الاقصی ٰ آپریشن فلسطین کی آزادی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ حزب اللہ حماس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ طاقتور ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے پاس تقریباً 150,000 میزائل اور مختلف اقسام کے راکٹ ہیں، جو بنیادی طور پر ایران فراہم کرتا ہے اور اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

لبنان کی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اسرائیل پر حماس کے حملے اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بحران کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل کے جنوب میں کارروائی مکمل طور پر حماس کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کو خفیہ رکھنا ہی اس کی کامیابی کی کنجی ہے اور یہ حماس نے 100 فیصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں 2006 ء کی لبنان کے خلاف جنگ کی غلطیوں کو دہرا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حکومتیں پچھلی لڑائیوں کے اسباق کو مدنظر نہیں رکھتیں۔ سب سے اہم غلطیوں میں سے ایک جو اسرائیلیوں نے کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں وہ اعلیٰ اہداف کا تعین کرنا ہے جنہیں وہ حاصل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل وہی غلطیوں کا ارتکاب کر رہا ہے، جو اس نے 2006 ء میں لبنان میں کی تھیں۔ حسن نصر اللہ نے سوال اٹھایا کہ غزہ میں 28 روز سے جاری مسلسل تباہی اور ہزاروں شہریوں کے قتل کے بعد اسرائیلی فوج نے اب تک کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں ؟ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے غزہ کے خلاف جنگ کا مکمل طور پر ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرایا اور کہا کہ اسرائیل صرف ایک آلہ کار ہے۔

حزب اللہ کیا ہے؟

حزب اللہ لبنان کی ایک شیعہ اسلامی سیاسی جماعت اور نیم فوجی تنظیم ہے ، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ اس کی قیادت حسن نصراللہ 1992 ء سے کر رہے ہیں۔ اس نام کے معنی اللہ کا گروہ ہے۔ حزب اللہ 1980 ء کی دہائی کے اوائل میں لبنان پر اسرائیلی قبضے کے دوران ایران کی مالی اور فوجی مدد سےوجود میں آئی۔ یہ جنوبی لبنان میں روایتی طور پر کمزور شیعوں کی حفاظت کرنے والی ایک قوت کے طور پر ابھری۔ تاہم، اس کی نظریاتی جڑیں 1960 ء اور 1970 ء کی دہائیوں میں لبنان میں شیعہ احیاء تک جاتی ہیں۔ 2000 میں اسرائیل کے انخلاء کے بعد، حزب اللہ نے اپنے فوجی گروپ، اسلامی مزاحمت کو مضبوط کرنا جاری رکھا۔

مزاحمتی بلاک پارٹی کے ساتھ اپنی وفاداری کی وجہ سے یہ گروہ آہستہ آہستہ لبنان کے سیاسی نظام میں اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ اس نے اس ملک کی کابینہ میں ویٹو کا اختیار بھی حاصل کر لیا۔ حزب اللہ پر برسوں سے اسرائیلی اور امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بم دھماکوں اور سازشوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ مغربی ممالک، اسرائیل، عرب خلیجی ممالک اور عرب لیگ حزب اللہ کو ایک ‘دہشت گرد’ تنظیم سمجھتے ہیں۔

جب 2011 ء میں شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو حزب اللہ نے، جو شامی صدر بشار الاسد کی کٹر حامی سمجھی جاتی ہے، اپنے ہزاروں شدت پسندوں کو بشار الاسد کے لیے لڑنے کے لیے بھیجا۔ یہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوا، خاص طور پر پہاڑی لبنانی سرحد کے قریب کے علاقے۔

اسرائیل اکثر شام میں ایران اور حزب اللہ سے منسلک اہداف پر حملے کرتا ہے لیکن شاذ و نادر ہی حملوں کا اعتراف کرتا ہے۔ تاہم شام میں حزب اللہ کے کردار پر لبنان کے بعض گروہوں میں تناؤ بڑھ گیا۔ شام کے شیعہ صدر کے لیے اس کی حمایت اور ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات نے بھی اس کی عرب خلیجی ریاستوں کے ساتھ دشمنی کو گہرا کر دیا، جس کی قیادت ایران کے اہم علاقائی حریف سعودی عرب کر رہے ہیں۔

Share With:
Rate This Article