Homeکھیلنگراں وزیراعظم انوار الحق کی شاہد آفریدی سے ملاقات

نگراں وزیراعظم انوار الحق کی شاہد آفریدی سے ملاقات

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور شاہد آفریدی ایک فریم میں

نگراں وزیراعظم انوار الحق کی شاہد آفریدی سے ملاقات

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی سے ملاقات۔ ملاقات میں کرکٹ کی بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق شاہد خان آفریدی نےملاقات کے دوران ملک بھر میں کرکٹ کے کھیل میںمزید بہتری لانے کے لیے اپنی تجاویز دیں۔ دوران ملاقات نگراں وزیراعظم نے شاہد آفریدی کو کرکٹ کی بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کو کہا، جس پر شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ بورڈ میںکسی بھی قسم کی ذمہ داریاں قبول کرنے کے حوالے سے سوچ کر جواب دینے کو کہا۔

ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعظم نے شاہد آفریدی سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف کو فون کیا اور انہیں قومی کرکٹ میں بہتری لانے کے لیے سینئر پلیئرز کے مشورے اور تجربے شامل کرنے کا کہا۔

یاد ذکا اشرف کی سربراہی میں کام کرنے والی پی سی سی منیجمنٹ کمیٹی کی معیاد 4نومبر کو ختم ہورہی ہے،پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایشیاء کپ اور ورلڈکپ میں بدترین کارکردگی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کے پرائیویٹ میسجز لیک اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے مسائل کا بھی سامنا رہا جس کے باعث کرکرکٹ بورڈ کی کمان میں بڑی تبدیلی کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کھلاڑیوں کو 5 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، راشد لطیف کا انکشاف

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ایک پروگرام میں راشد لطیف کا کہنا تھا کہ بابر اعظم دو دن سے چیئرمین پی سی بی کو میسج کر رہے ہیں لیکن وہ رپلائی نہیں کررہے، سلمان نصیر اور عثمان والا کو کررہے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے کپتان بابراعظم کو رپلائی نہیں دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان سب کے بعد آپ پریس ریلیز نکال رہے ہیں اور کھلاڑیوں کو یہ کہا ہے کہ جو سینٹرل کنٹریکٹ سائن کیا ہے اسے ہم دوبارہ دیکھیں گے اور یہ سینٹرل کنٹریکٹ مانا نہیں جائے گا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کاکہنا تھا کہ پریس ریلیز کا اجرا پیشہ ورانہ طرز عمل نہیں ہے، ورلڈ کپ ہو یا دوطرفہ سیریز ایسی پریس ریلیز تو کبھی نکلنی ہی نہیں چاہیے، کیا یہ کہنے کی بات ہے کہ فینز اور سابق کھلاڑی ٹیم کو سپورٹ کریں، یہ کہنے کی بات نہیں ہے۔

Share With:
Rate This Article