Homeتازہ ترینغزہ جنگ: کون سا ملک اسرائیل کے ساتھ ، کون مخالف؟

غزہ جنگ: کون سا ملک اسرائیل کے ساتھ ، کون مخالف؟

غزہ جنگ: کون سا ملک اسرائیل کے ساتھ ، کون مخالف؟

غزہ: (سنو نیوز)اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع پر عالمی برادری کئی دہائیوں سے منقسم ہے۔ لیکن گذشتہ ماہ 7 اکتوبر کو اسرائیل کے اندر حماس کے حملے کے بعد تقسیم کی یہ لکیر پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گئی ہے۔

حماس کے حملے کے فوراً بعد بعض ممالک نے حماس کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کی جبکہ بعض ممالک حماس کی حمایت میں سامنے آئے۔ کچھ ممالک نے دیرپا امن کے قیام کے لیے نئی کوششوں کی اپیل کی تو کچھ نے اسرائیل کو اس جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ لیکن اب مغربی ممالک اسرائیل کے پیچھے اور عرب ممالک حماس کے پیچھے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

جن عرب ممالک نے سفارتی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل میں اپنے سفیر بھیجے ہیں ان میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ ایران نے تمام اسلامی ممالک سے اسرائیل کے ساتھ تجارت ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف امریکا، برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس جنگ میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔

جنگ شروع ہوئے 27 دن ہوچکے ہیں۔ حماس کے زیر اقتدار وزارت صحت کے مطابق غزہ میں مرنے والوں کی تعداد9000 سے تجاوز کر گئی ہے ج کہ اسرائیل میں 1400 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنگ کب ختم ہوگی؟ حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے لوگوں کو کب رہا کیا جائے گا؟ فی الحال کسی کے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے کہ غزہ میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں کب دوبارہ پٹڑی پر آئیں گی۔

پہلے ان ممالک کی بات کرتے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 26 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی جس میں ‘شہریوں کے تحفظ اور غزہ میں انسانی ہمدردی کے اقدامات کے تسلسل’ کی حمایت کی گئی۔ اس تجویز کے حق میں 120 ووٹ ڈالے گئے جبکہ امریکا سمیت 14 مغربی ممالک نے اس کے خلاف ووٹ دیا جب کہ بھارت سمیت 45 ممالک ووٹنگ سے باہر رہے۔

امریکا:

امریکی جھنڈا لہرا رہا ہے

امریکا 1948 ء میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک تھا۔ حماس کے حملے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل پہنچ گئے اور کہا کہ وہ ‘اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں’۔امریکا اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسرائیلی سرزمین کو محفوظ بنانے کی کوششیں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں صدور کے دور میں امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ رہی ہیں۔سال 2020 ء میں امریکا نے اسرائیل کی 3.8 بلین ڈالر کی مدد کی تھی۔ اس سے قبل سال 2016 ء میں امریکا نے 38 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس پر 2017 ء سے 2028 ء تک عمل کیا جائے گا۔امریکا نا صرف یہودیوں کو اپنے ملک میں بساتا ہے بلکہ اسرائیل کی فوج کو دنیا کی جدید ترین فوج بنانے میں بھی کروڑوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔

فرانس:

فرانس کا جھنڈا

فرانس یورپ کا ایک ایسا ملک ہے جہاں یہودی اور مسلم کمیونٹی کے لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ یہاں تقریباً پانچ لاکھ یہودی رہتے ہیں جو یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ بھی یورپ کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔حماس کے حملے کے بعد نہاصرف امریکی صدر بلکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون بھی اسرائیل پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر حماس یہ جنگ جیت گئی تو یورپ خطرے میں پڑ جائے گا۔ میکرون نے کہا کہ یہ لڑائی صرف اسرائیل کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی پورے یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے ہے۔ میکرون نے فلسطینی انتہا پسند تنظیم حماس کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنظیم اسرائیل کے لوگوں کی موت چاہتی ہے۔ اسرائیل پر ہمارے حملے میں 10 سے زائد فرانسیسی شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک درجن سے زائد تاحال لاپتہ ہیں۔ فرانسیسی حکومت نے ملک میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرماون نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانس میں مقیم غیر ملکی شہری قوانین پر عمل نہیں کرتے تو انہیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس سب کے باوجود غزہ پر اقوام متحدہ میں ہونے والی ووٹنگ میں فرانس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور کہا کہ شہریوں کے قتل کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فرانس نے اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی وکالت کرتے ہوئے مغویوں کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی، اٹلی، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے حماس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کی ہے۔

ایران:

مظاہرین ایرانی جھنڈا لہرا رہے ہیں

1948 ء میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت وجود میں آنے کے بعد سے اسرائیل نے اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ کئی جنگیں لڑی ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں دو درجن سے زائد ممالک ایسے ہیں جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ ان ممالک میں سب سے اہم نام ایران کا ہے۔ ایران اسرائیل کے وجود سے انکاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کی سرحدیں ایک دوسرے سے مشترک نہیں ہیں لیکن اسرائیل کے پڑوسی ممالک لبنان، شام اور فلسطین میں ایران کا اثر و رسوخ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس حملے کے پیچھے براہ راست ایران کا ہاتھ نہیں ہے تو بھی ایران حماس کے جنگجوؤں کو تربیت دینے، انہیں مسلح کرنے اور حملے سے قبل مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس جنگ میں ایران حماس کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اور اسرائیل کو بار بار سنگین نتائج سے خبردار کر رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کے حملے جاری رہے تو مسلمانوں کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ تازہ ترین بیان میں انہوں نے تمام مسلم ممالک سے اسرائیل کے خلاف متحرک ہونے کو کہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ غزہ پر حملے بند ہونے چاہئیں۔ جو مسلم ممالک اسرائیل کو تیل اور اشیائے خوردونوش بھیج رہے ہیں انہیں فوری بند کیا جائے۔ مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعاون کی ضرورت نہیں ہے۔

اردن:

عرب ملک اردن کا جھنڈا

عرب ملک اردن کی سرحد مغربی کنارے سے ملتی ہے اور بڑی تعداد میں فلسطینی پناہ گزین یہاں مقیم ہیں۔جب اسرائیل قائم ہوا تو اس علاقے کی ایک بڑی آبادی اردن بھاگ گئی۔ اردن اس جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور دو قومی نظریہ کی بات کرتا ہے۔ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ میں قرارداد لانے کا کام بھی اردن نے کیا تھا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد اردن نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے جب کہ احتجاج کے باعث اردن میں اسرائیل کے سفیر دو ہفتے قبل تل ابیب چلے گئے تھے۔ اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کہا کہ ہم نے تل ابیب سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے اور کہا ہے کہ ہم دوبارہ سفیر نہیں بھیجیں گے۔ غزہ پر جو جنگ چھیڑی گئی ہے، جس میں ہزاروں فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اس نے ایک انسانی بحران پیدا کر دیا ہے اور نسلوں تک لوگوں کو ستائے گا۔ اردنی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تل ابیب سے سفیر کی واپسی اسی صورت میں ہو گی جب اسرائیل غزہ پر اپنی جنگ روک دے اور پیدا ہونے والے انسانی بحران کو ختم کر دے ۔ اردن کے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ “یہ قدم اردن کے موقف کو بیان کرنے اور غزہ پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کے لیے اٹھایا گیا ہے۔” اردن کی حکومت نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا گیا ہے کیونکہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل فلسطینیوں کو خوراک، ادویات اور تیل تک رسائی کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

ترکیہ:

ترکیہ کا جھنڈا ، پیچھے مینار نظر آ رہا ہے

ترکیہ اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات 1949 ء سے ہیں۔ ترکیہ پہلا مسلم اکثریتی ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ تاہم ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات 2002 ء سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ ترکیہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہمیشہ اسرائیل پر لفظی طور پر حملہ آور رہا ہے۔ 2018ء میں، ترکی نے غزہ میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیل کی پرتشدد کارروائیوں کے خلاف احتجاجاً تل ابیب سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔اگست 2022 ء میں ترکی اور اسرائیل نے چار سال کے تعطل کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر دیے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے ہفتہ 28 اکتوبر کو استنبول میں فلسطین کے حق میں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ اس ریلی میں انہوں نے حماس کو آزادی پسند گروپ اور اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دیا۔ ایردوان نے کہا کہ حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک آزادی پسند گروپ ہے، جو اپنی سرزمین اور لوگوں کے تحفظ کے لیے لڑ رہا ہے۔

سعودی عرب:

ایک شخص سعودی عرب کے جھنڈے کے سامنے کھڑا ہو کر دعا مانگ رہا ہے

کچھ عرصہ قبل سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے اقدامات شروع کیے گئے تھے۔ لیکن اسرائیل اور حماس کے تنازع نے اس پوری مشق کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔ فلسطین دنیا بھر کے مسلمانوں اور عربوں کے لیے بہت اہم ہے۔ سعودی قیادت کو احساس ہے کہ اگر اس نے فلسطینیوں کی جدوجہد سے منہ موڑ لیا تو اس سے خطے اور عالمی سطح پر اس کا امیج متاثر ہوگا۔ اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس سے اس کے مذہبی جواز کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔سعودی عرب کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں اسرائیل سے ہاتھ ملانا ایران کو اپنے خلاف ہتھیار دینے کے مترادف ہوگا۔ جنگ کے آغاز کے بعد سعودی عرب نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق کے حصول، باوقار زندگی گزارنے، ان کی توقعات پر پورا اترنے اور انصاف اور پائیدار حصول کی کوششوں میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

قطر:

عرب ملک قطر کا جھنڈا

قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، “قطر ایک بار پھر تمام فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تنازعہ کو نہ بڑھائیں۔” دونوں فریقوں کو تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دینا چاہیے تاکہ یہ علاقہ مزید تشدد کے چکر میں نہ پھنس جائے۔ قطر کے اسرائیل کے ساتھ کوئی باضابطہ تعلقات نہیں ہیں۔ اس کے باوجود قطر ثالثی کے معاملے میں مرکزی کردار ادا کرنے آیا ہے۔ اب قطر کی مدد سے حماس سے یرغمالیوں کو چھڑانے کی کوششیں جاری ہیں۔ قطری حکام یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر اسرائیلی ثالثوں سے فون پر بات کر رہے ہیں۔ حماس نے حال ہی میں چار مغویوں کو رہا کیا تھا جس پر امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم نے قطر کا شکریہ ادا کیا تھا۔ حماس کے سیاسی شعبے کا دفتر 2012 ء سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بہت سے قطری اہلکار غزہ جا چکے ہیں اور حماس کے سینئر رہنماؤں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ لیکن قطر اور اسرائیل کے درمیان بیک چینل مذاکرات کھلے ہیں اور قطری حکام یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر اسرائیلی ثالثوں کے ساتھ فون پر بات کر رہے ہیں۔

بولیویا:

بولیویا کا جھنڈا

لاطینی امریکی ملک بولیویا نے اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائی کے پیش نظر اس سے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کیا ہے۔نائب وزیر خارجہ فریڈی ممانی نے اسرائیل کے اس اقدام کو ‘جارحانہ اور غیر متناسب’ قرار دیا ہے۔بولیویا لاطینی امریکا کا پہلا ملک ہے جس نے اس تنازع کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ملک نے جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد بھیجے گا۔ بولیویا پہلے ہی غزہ کی پٹی پر اسرائیل سے تعلقات توڑ چکا ہے۔ اسرائیل سے تقریباً ایک دہائی تک تعلقات منقطع ہونے کے بعد دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات 2019 میں ہی بحال ہوئے۔

کولمبیا:

کولمبیا کا جھنڈا

کولمبیا نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر گستاو پیٹرو کا کہنا ہے کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی ‘نسل کشی’ کر رہا ہے اور ایسی صورتحال میں ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ یہ نسل کشی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

چلی:

چلی کا جھنڈا

چلی نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چلی کے صدر گیبریل بورک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملے میں بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے چلی کے موقف پر اپنا اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ چلی ایران کی طرف جھکاؤ رکھتے ہوئے حماس کی ‘دہشت گردی’ کی حمایت نہیں کرے گا۔

پاکستان:

پاکستان کا جھنڈا

پاکستان اس جنگ میں فلسطین کا ساتھ دیتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان نے حماس کے اسرائیل پر حملے کی مخالفت بھی نہیں کی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان فلسطین کی حمایت میں کھڑا ہے اور اسرائیل کی قابض افواج کے تشدد اور مظالم کو بند کرنے کی اپیل کرتا ہے‘‘۔ وہ دو ملکوں کے اصول کی بھی وکالت کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے اور عالمی قوانین کے مطابق مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور جامع حل ہی یہاں مستقل امن بحال کر سکتا ہے۔

انڈیا:

انڈیا کا جھنڈا

وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل پر حماس کے حملے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کئی ممالک کی طرح ہندوستان بھی دو ملکی حل کی بات کرتا ہے۔ دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کو ایک آزاد ملک تسلیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ملک مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم میں 1967 ء سے پہلے کی جنگ بندی لائن میں بنایا گیا تھا۔ لیکن 26 اکتوبر کو جب اقوام متحدہ میں غزہ کے حوالے سے ووٹنگ ہوئی تو بھارت نے اس قرارداد سے خود کو دور کر لیا۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارت کا موقف مغربی ممالک کی طرز پر ہے۔

چین:

چین کا جھنڈا

چین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ چین دو ریاستی حل کی بات کر رہا ہے۔ یعنی وہ کہتا ہے کہ یہ بحران اسی وقت حل ہو سکتا ہے جب فلسطین ایک آزاد اور خودمختار ملک بن جائے۔ حماس کی حمایت کرنے والے ایران کے ساتھ چین کے قریبی تعلقات ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ثالث کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ لیکن چین کو اس جنگ میں توازن برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین طویل عرصے سے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہمدردی رکھتا ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بانی ماو زے تنگ نے فلسطینیوں کو ہتھیار بھیجے تھے۔ بعد ازاں چین نے اپنی اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا تاہم چین نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ حالیہ دنوں میں چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر حکام نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Share With:
Rate This Article