27 February 2024

Homeتازہ ترینپوری دنیا کو حسن نصراللہ کے خطاب کا انتظار

پوری دنیا کو حسن نصراللہ کے خطاب کا انتظار

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ خطاب کر رہے ہیں

پوری دنیا کو حسن نصراللہ کے خطاب کا انتظار

بیروت: (سنو نیوز) اس وقت پوری دنیا کو حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے خطاب کا انتظار ہے، وہ جمعہ کے روز غزہ اسرائیل جنگ پر اہم اعلان کرنے جا رہے ہیں، سب کو ان کی تقریر کا بے صبری سے انتظار ہے۔

اس وقت ناصرف لبنانی بلکہ عالمی میڈیا حسن نصر اللہ کی کل کی تقریر پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔لبنانی میڈیا کا کہنا ہے حسن نصراللہ کل جو اعلان کرنے والے ہیں، وہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے جو لوگ سوچ رہے ہیں۔ غزہ پر تقریباً ایک ماہ سے جاری بمباری کے بعد اسرائیل کا زمینی حملہ یقینی طور پر حسن نصر اللہ کی تقریر کے مواد کو متاثر کرے گا۔وہ تقریر جسے پوری دنیا سننے کا انتظار کر رہی ہے لیکن ان کے قریبی لوگوں کو بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔

بااثر اخبار الجموریہ کے سیاسی تجزیہ کار ٹونی عیسیٰ کہتے ہیں کہ یہ خیال کہ ایران حزب اللہ کو غزہ میں حماس کے دفاع کے لیے مداخلت کرنے کا حکم دے گا، منطقی ہے۔ ان کے مطابق، حزب اللہ نے “سرحد اور اسرائیل کے شمالی محاذ کو گرما دیا ہے۔لیکن حزب اللہ نے یہ کارروائیاں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کی ہیں۔

اپنے آج کے شمارے میں النہار اخبار نے لکھا ہے کہ جنوبی لبنان میں بکھرے ہوئے سرحدی تنازعات نے اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کو اٹھایا، جس نے 2006 ء کی جنگ کا خاتمہ کیا اور اس میں ایسی دفعات موجود ہیں جو حکومتی فورسز کو ایک اور جنگ کو روکنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس قرارداد کا واحد آئٹم جس پر عمل درآمد کیا گیا وہ تھا “فوجی کارروائیوں کا خاتمہ”۔ اس کی باقی شرائط کو بھلا دیا گیا ہے۔ اور اسرائیل نے لاپرواہی سے لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اوراس کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے شام پر حملہ بھی کیا۔”

YouTube video player

فرانسیسی زبان کے اخبار L’Orient-Le Jour نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ حسن نصر اللہ اپنی تقریر کے لیے صحیح وقت اور “صحیح حالات” کا انتظار کر رہے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیل کا زمینی حملہ شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ غزہ جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف مغربی عوام کا غصہ بڑھے گا۔اخبار کے مطابق حسن نصر اللہ کی تقریر ’محتاط‘ ہوگی کیونکہ وہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور تنازع میں بڑا اضافہ نہیں چاہتے۔

حزب اللہ سے وابستہ میڈیا اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ اپنی اور حماس کی جنگی کامیابیوں کو سمجھتے ہیں۔ المنار ٹی وی نیٹ ورک نے 8 اکتوبر سے لبنان کے ساتھ سرحد پر اسرائیلی ہلاکتوں کی فہرست شائع کی اور دعویٰ کیا کہ “120 اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، 9 ٹینک، 33 ریڈار اور اسرائیلی فوج کا ایک ڈرون” تباہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہ ایسے اعداد و شمار جن کی اسرائیل تصدیق نہیں کرتا۔

بااثر اخبار الاخبار نے بھی اسرائیل کی جنگی کامیابیوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی زمینی جارحیت کے خلاف غزہ کے رہائشی علاقوں میں ’سخت مزاحمت‘ ہوئی جس کے نتیجے میں اسرائیلیوں کو کافی جانی نقصان پہنچا۔ اور یہ کہ ’’دشمن ایک ایسی دلدل میں اتر چکا ہے کہ اب وہ باہر نہیں نکلے گا اور فتح افق پر نظر نہیں آرہی‘‘۔

Share With:
Rate This Article