19 April 2024

Homeتازہ ترینجنگ دوبارہ شروع، غزہ میں 109 افراد لقمہ اجل بن گئے

جنگ دوبارہ شروع، غزہ میں 109 افراد لقمہ اجل بن گئے

جنگ دوبارہ شروع، غزہ میں 44 افراد لقمہ اجل بن گئے

جنگ دوبارہ شروع، غزہ میں 109 افراد لقمہ اجل بن گئے

غزہ: (سنو نیوز) فلسطینی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ آج صبح جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے کم از کم 109 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اسرائیل غزہ میں 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک ہفتے کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں تنازعہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ اس جنگ بندی کے دوران حماس نے یرغمالیوں اور اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

جمعے کو اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایک بار پھر غزہ پر بمباری کی۔ غزہ کے آسمان پر ایک بار پھر دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ اسرائیل اور حماس دونوں نے ایک دوسرے پر تنازع کی بحالی کا الزام عائد کیا ہے۔

اسی دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں آسمان سے کتابچے گرائے ہیں اور لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ اسرائیل نے ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غزہ کے لوگ جا سکتے ہیں۔ اسرائیل نے ان علاقوں کو انخلاء کا علاقہ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

غزہ: بے گھر افراد شدید سردی میں بے یارومددگار

اسرائیلی جیٹ طیاروں نے آج خان یونس کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں کتابچے گرائے ہیں جن میں ایک کیو آر کوڈ چھپا ہوا ہے۔ اس QR کوڈ کو اسکین کرنے سے غزہ کی پٹی کا نقشہ کھل جاتا ہے جسے 2,300 مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یہاں رہنے والے اس میں دی گئی ہدایات پر عمل کر کے محفوظ مقامات پر جا سکتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے سے پہلے غزہ میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اینٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ غزہ کے شمال میں ہونے والے نقصان کو جنوب میں نہیں دہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔

شہر میں ایک بار پھر ایمبولنس کے سائرن کی آوازیں گونجنا شروع ہو گئی ہیں۔ فضائی حملوں کا نشانہ معصوم فلسطینی بچے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بیس بچوں سمیت 44افراد شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کے ہسپتال اور طبی سہولت کے مراکز اسرائیل کی بمباری سے پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں۔تازہ حملوں میں زخمی ہونے والوں کو النصر اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں طبی سہولیات ناکافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ایلون مسک کا غزہ کو انٹرنیٹ فراہمی کے فیصلے سے یوٹرن

غزہ کے چاروں طرف دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں مسلسل گونج رہی ہیں۔ادھر قطر اور مصر دوبارہ جنگ بندی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ قطر کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی جارحیت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں چھوٹا معصوم بچہ شہید ہو گیا۔ بچے کے والد نے لاش ہاتھوں میں اٹھا کر کہا کہ عرب ممالک امریکا اور یورپ کو پیٹرول فروخت کرنا بند کر دیں تاکہ اسرائیل ہمارے بچوں کا قتل عام نہ کرے۔

Share With:
Rate This Article