22 February 2024

Homeتازہ ترینتیونس کی جیل سے پانچ “خطرناک” قیدی فرار

تیونس کی جیل سے پانچ “خطرناک” قیدی فرار

تیونس کی جیل سے پانچ "خطرناک" قیدی فرار

تیونس کی جیل سے پانچ “خطرناک” قیدی فرار

تونس: (سنو نیوز) تیونس کی ایک جیل سے پانچ قیدی، جنہیں اس ملک کی حکومت نے خطرناک انتہا پسند قرار دیا تھا ، فرار ہو گئے ہیں۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے ان افراد کی تصاویر شائع کی ہیں اور لوگوں سے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ان کے بارے میں کوئی معلومات ہیں تو وہ ان کے ساتھ شیئر کریں۔

وزارت نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ یہ افراد منگل کی صبح مارنوگویا جیل سے فرار ہو گئے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوں میں احمد مالکی بھی شامل ہیں، جنہیں 2013 ء میں دو سیاستدانوں کو قتل کرنے کے جرم میں قید کیا گیا تھا۔

اسے “صومالی” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسے سیکولر سیاستدانوں ‘شکری بلید’ اور ‘محمد براہمی’ کے قتل کے مقدمات میں 24 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان ہلاکتوں کے باعث 2013ء میں تیونس میں سیاسی بحران پیدا ہوا، جس نے بالآخر حکومت کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

تیونس کی جیل سے فرار ہونے والے خطرناک قیدیوں کی تصویریں

خبر رساں ادارے روئٹرز کا مزید کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں میں رعد الطواتی بھی شامل ہے، جو گذشتہ ایک دہائی کے دوران تیونس میں کئی مہلک حملوں میں ملوث تھا۔ نام نہاد عرب بہار کی بغاوت تیونس میں 2011 ء میں شروع ہوئی تھی اور ان مظاہروں نے زین العابدین بن علی کے طویل دور حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔

لیکن اس ملک کو اب بھی بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صدر قیس سعید مکمل اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تیونس میں بھی 2015 ء میں ایک مہلک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔

اس سال ملک کے شمال میں ایک مشہور سیاحتی مقام سوس میں ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر کے 38 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

Share With:
Rate This Article