رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کی ایک لہر داغی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ متاثرہ طیارے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود تھے، جو خطے میں امریکی افواج کی اہم فوجی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق حملے کے وقت یہ طیارے زمین پر کھڑے تھے اور ایرانی میزائلوں کے نتیجے میں انہیں نقصان پہنچا۔ متاثر ہونے والے طیارے بوئنگ کے سی–135 اسٹریٹو ٹینکر طیارے ہیں جو جنگی طیاروں اور بمبار طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان طیاروں کی مدد سے لڑاکا طیاروں کی پرواز کا دورانیہ اور آپریشنل حد میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران پر آج مزید سخت حملوں کا عندیہ
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ میزائل حملے کے نتیجے میں طیاروں کو نقصان ضرور پہنچا تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے۔ اس وقت متاثرہ طیاروں کی مرمت کا عمل جاری ہے جبکہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
واضح رہے کہ پرنس سلطان ایئر بیس سعودی دارالحکومت ریاض سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اسے خلیجی خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کو خطے میں امریکی فضائیہ کو پیش آنے والے حالیہ مسائل کی ایک کڑی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل دو کے سی–135 طیارے ایک آپریشن کے دوران آپس میں ٹکرا گئے تھے جس کے نتیجے میں ان میں سے ایک طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تباہ ہونے والے طیارے میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ تازہ واقعے کے بعد حالیہ دنوں میں نقصان اٹھانے یا تباہ ہونے والے امریکی ایندھن بردار طیاروں کی مجموعی تعداد کم از کم سات تک پہنچ گئی ہے۔