رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں نے اسرائیل اور اس کے اتحادی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں،ضرورت پڑنے پر وہ فوری کارروائی کر سکتے ہیں۔ حوثی ایران کے زیر قیادت محورِ مزاحمت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی انہوں نے اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ماہر بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ اگر حوثی اس جنگ میں براہِ راست شامل ہو گئے تو اس سے کشیدگی پورے خطے تک پھیل سکتی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ حوثیوں کی شمولیت نہ صرف اسرائیل بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیج اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی جہازوں کیلئے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے ساتھ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج میں جہازرانی میں خلل خطے کی اقتصادی سرگرمیوں اور عالمی تیل کی سپلائی کیلئے
یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل جنگ، دبئی میں دھماکوں سے عمارتیں لرز گئیں
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ماہرین نے عالمی برادری سے فوری اقدامات اور مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حوثیوں کی شمولیت واقع ہوئی تو یہ صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔