ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس حملے میں امریکی جنگی جہاز کو نقصان پہنچا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے تناظر میں کی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے نئے سپریم رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد ایران نے اسرائیل کے مختلف علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی افواج نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے تل ابیب کے مرکزی علاقے اور وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، حملوں کے بعد متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ فضائی دفاعی نظام بھی متحرک ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل جنگ: دبئی میں دھماکوں سے عمارتیں لرز گئیں
ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں سخت انتباہ دیا گیا کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات، بندرگاہوں یا اہم قومی تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا جواب نہایت سخت اور تباہ کن انداز میں دیا جائے گا۔
ماہر بین الاقوامی امور کے مطابق حالیہ پیش رفت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور اگر حالات اسی طرح جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تصادم کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔