چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر سعودی عرب اور اماراتی وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ چین ثالِثی کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا، اختلافات پُرامن طریقے سے حل کرنے کے سعودی عرب کے مؤقف کو سراہتے ہیں، تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ توانائی اور غیر عسکری اہداف پر حملے نہیں کرنے چاہئیں، جہاز رانی کے لیے بحری راستے محفوظ ہونے چاہئیں۔
ادھر سری لنکن بندرگاہ کے قریب امریکی آبدوز کے ایرانی جہاز پر حملے میں 87 افراد شہید جبکہ 32 زخمی ہو گئے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ایرانی جہاز ڈبونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بحیرۂ ہند میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو امریکی افواج نے نشانہ بنایا اور اسے ڈبو دیا، یہ کارروائی امریکہ کی فوجی حکمت عملی کے تحت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کو ایران حملے سے پہلے اسرائیل جانا مہنگا پڑگیا
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جنگی جہاز کو لگتا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ رہے گا لیکن ایسا نہیں تھا۔
خیال رہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86 ویں بیڑے کا حصہ تھا، یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔
نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔