اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو مختصر فارمیٹ میں بھارت کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے، دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کھیلے گئے 16 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان صرف 3 بار کامیاب ہو سکا ہے جبکہ 13 میچز میں بھارت نے فتح سمیٹی۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کی تاریخ بھی گرین شرٹس کیلئے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی، 8 مقابلوں میں سے صرف ایک بار کامیابی ملی۔
پاک بھارت مقابلوں کی کہانی 2007 میں شروع ہوئی جب پہلا میچ بال آؤٹ پر ختم ہوا، جبکہ اسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں سنسنی خیز معرکے کے بعد ٹائٹل بھارت کے نام رہا۔ اس کے بعد 2012، 2014 اور 2016 کے ایڈیشنز میں بھی پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم 2021 میں کپتان بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے تاریخ بدلتے ہوئے پہلی بار ورلڈ کپ میں بھارت کو شکست دی اور شائقین کو خوشی سے نہال کر دیا۔
2022 کے ایڈیشن میں ایک مرتبہ پھر مقابلہ آخری اوورز تک گیا جہاں ویراٹ کوہلی کی شاندار بیٹنگ نے پاکستان سے فتح چھین لی۔ 2024 میں بھی پاکستانی ٹیم ایک نسبتاً آسان ہدف حاصل نہ کر سکی اور کامیابی بھارت کے حصے میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 19 سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب
آج کے میچ کیلئے پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور اطلاعات ہیں کہ فخر زمان اور خواجہ نافع کو فائنل الیون میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ میچ شام 06:30 بجے شروع ہوگا تاہم بارش کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے جو مقابلے کے رنگ میں خلل ڈال سکتی ہے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بھی کولمبو پہنچ چکے ہیں جہاں سری لنکن حکام نے ان کا استقبال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ بہترین تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور ورلڈ کپ کے تمام میچز سری لنکا میں کھیل رہا ہے، اس لیے میزبان ملک کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔