بلوچستان،خیبر پختونخوا: مارکیٹس رات 8، شادی ہالز 10 بجے بند
بلوچستان، خیبرپختونخوا
شادی ہال، ضیافت ہال اور ہوٹلوں میں تمام تقریبات رات 10 بجے تک ختم ہوں گی/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) توانائی کے تحفظ اور عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں اہم اقدامات پر عمل درآمد کا باضابطہ آغاز کردیا گیا۔ مارکیٹ ،شاپنگ سینٹر رات8، شادی ہالز، ریستوران رات 10 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں محکمہ داخلہ بلوچستان نے مارکیٹوں، شادی ہالز اور ریستورانوں کے اوقات کار میں تبدیلی کی ہدایات جاری کر دیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے مطابق مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹرز رات 8 بجے تک بند کردئیے جائیں گے، دواخانے، تندور اور نانبائی پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

شادی ہال، ضیافت ہال اور ہوٹلوں میں تمام تقریبات رات 10 بجے تک ختم ہوں گی اور ریستوران بھی رات 10 بجے بند کردئیے جائیں گے، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر سختی سے عملدرآمد کرائیں گے ، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔

محکمہ داخلہ بلوچستان نے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ ان احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں اور متعلقہ افراد کو مطلع کریں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا فیول سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کا آغاز

حکومت بلوچستان نے عوام سے درخواست کی ہے کہ ان اقدامات میں حکومت سے تعاون کریں تاکہ توانائی بحران پر قابو پانے سمیت عوام کو موثر ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں کہا بلوچستان حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ میں اضافے کے بعد عوامی ریلیف کے اقدامات کا آغاز کیا اور 1 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد بچت کی، چھوٹے کسانوں کو کسان کارڈ کے ذریعے 15ہزار روپے فراہم کریں گے ، پنک اور گرین بس ایک ماہ کے لیے فری کردی ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے اعلامیے کے مطابق صوبہ بھر میں مارکیٹوں، پلازوں اور کمرشل مراکز کے اوقات کار مقررکیے گئے ہیں۔ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے اور اضلاع میں 8 بجے بند ہوں گی، ریسٹورنٹس،کیفے اور ہوٹلز رات 10 بجے بند ہوں گے ، ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی اجازت ہوگی۔

شادی ہالز، مارکیز اور ایونٹس رات 10 بجے تک محدودکر دیئے گئے ، نجی دفاتر، بینکس، اکیڈمیز، شاپس، جم اور دیگرکمرشل سرگرمیاں بھی پابندی میں شامل ہیں۔ زرعی و تعمیراتی سرگرمیاں، ہسپتال، لیبارٹریز اور ایمرجنسی سروسز ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ میڈیکل سٹورز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے ، صرف ادویات کی فروخت تک محدود ہوں گے ، تندور، پیٹرول پمپس اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مخصوص حد تک استثنیٰ حاصل ہوگا۔ صنعتی یونٹس اورفیکٹریاں کام جاری رکھ سکیں گی، غیر ضروری لائٹنگ ، عمارتوں، پلازوں اور ایونٹ میں ڈیکوریٹیو اور فلڈ لائٹس پر پابندی ہوگی۔

مارکیٹس میں صرف ضروری لائٹنگ کی اجازت ہوگی، بل بورڈز، ایل ای ڈی سکرینز اور سائن بورڈز بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ کاروباری اوقات کے بعد اے سی، لفٹس اور ایسکلیٹرز کے استعمال پر پابندی ہوگی، غیرضروری کمرشل سرگرمیوں میں جنریٹر پر بھی پابندی عائد ہے۔

ادھرمحکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق تمام بازار اور کاروباری مراکز رات 8 بجے تک کھلیں گے ، میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اعلامیے کے مطابق تمام شادی ہالز اور باہرمنعقدہ شادی کی تقریبات بھی رات 10 بجے تک ختم کی جائیں گی، جاری کردہ ہدایات کے مطابق 6 اپریل 2026 سے عملدرآمد ہوگا۔