واقعہ اُس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ خوش قسمتی سے حملے کے وقت ملک نوید احمد مہمند گاڑی میں موجود نہیں تھے، تاہم ان کے پرسنل سیکرٹری گاڑی میں سوار تھے جو اس حملے میں محفوظ رہے۔ حملہ اچانک کیا گیا جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے فوری بعد مقامی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔ جائے وقوعہ سے خول بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھلنے لگی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، تاہم حتمی رائے مکمل تفتیش کے بعد دی جائے گی۔ علاقے میں سرچ آپریشن بھی کیا گیا جبکہ مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔
آج صدر پی ٹی آئی مہمند و ناظم اعلی لوئر مہمند ملک نوید احمد مہمند پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،
— Irfan Saleem (@_IrfanSaleemPTI) February 27, 2026
خوش قسمتی سے نوید مہمند گاڑی میں موجود نہیں تھے تاہم ان کے پرسنل سیکرٹری موجود تھے جو کہ محفوظ ہے، میں پختونخوا حکومت اور پختونخوا پولیس سے اپیل کرتا ہوں کہ جلد از… pic.twitter.com/vrVx9JoVUj
پی ٹی آئی قیادت نے خیبر پختونخوا حکومت اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ایسے واقعات سے پارٹی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور جلد ہی اہم پیش رفت متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔