ان کا شمار اردو کے اُن شعرا میں ہوتا تھا جنہوں نے رومانوی شاعری کو اپنے منفرد اسلوب اور سادہ مگر گہرے اظہار سے نئی پہچان دی۔
اعتبار ساجد یکم جولائی 1948 کو ملتان میں پیدا ہوئے، وہ گزشتہ کچھ عرصے سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے،جان لیوا بیماری سے لڑتے ہوئے گزشتہ رات خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ان کی وفات پر ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی شائقینِ ادب انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
مرحوم اعتبار ساجد اردو کے مقبول غزل گو شعرا میں شمار ہوتے تھے، ہجر و وصال، محبت، تنہائی اور انسانی جذبات کی باریکیوں کو انہوں نے نہایت خوبصورتی سے اپنی شاعری میں سمویا۔ ان کا شعری لہجہ نرم، رومانوی اور قاری کے دل کو چھو لینے والا تھا، جس کی وجہ سے ان کی غزلیں ہر عمر کے قارئین میں مقبول رہیں۔
انہوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے، ابتدا میں گورنمنٹ کالج نوشکی، بلوچستان میں لیکچرر کے فرائض انجام دیے، بعد ازاں اسلام آباد میں بھی تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے نثر میں بھی طبع آزمائی کی۔
یہ بھی پڑھیں:مہاجر کیمپ کے قریب فائرنگ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق
اعتبار ساجد کی معروف تصانیف میں دستک بند کواڑوں پر، آمد، وہی ایک زخم گلاب سا، مجھے کوئی شام ادھاردو شامل ہیں۔ بچوں کیلئے بھی انہوں نے یادگار کتابیں لکھیں، جن میں راجو کی سرگزشت، آدم پور کا راجا، پھول سی اک شہزادی، مٹی کی اشرفیاں نمایاں ہیں۔
اعتبار ساجد کا یہ شعر ان کی فکری سچائی کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
مری زبان و قلم میں کوئی تضاد نہیں،
میں اپنے عصر کی سچائیوں کا شاعر ہوں۔