مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، پورا شہر سوال کر رہا ہے کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہا، کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنے، یہ جمہوری دہشت گردی ہے اور کراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہو گئی
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سندھ حکومت سے شکایت کی جاتی ہے تو ایم کیو ایم پر بلدیہ فیکٹری، بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے الزامات لگا دیئے جاتے ہیں، حالانکہ ان جرائم سے ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں، موجودہ حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے باعث نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر نظام کو بچانے کے لیے کراچی کو قربانیاں دینی پڑیں گی تو ریاست واضح طور پر بتا دے کہ مزید کتنی جانیں درکار ہیں، ہمیں مار دیں، سولی پر لٹکا دیں، مگر ہماری نسل کشی بند کی جائے، کراچی کو بھٹو کے دیئے گئے آئین کے مطابق ملک کا فنانشل کیپیٹل بنایا جائے اور اسے وفاق کے تحت لیا جائے، کیونکہ موجودہ نظام میں یہ لوگ ٹھیک ہونے والے نہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کراچی کے عوام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، اٹھارویں ترمیم کوئی مقدس شق نہیں، پاکستان کو بچانے کے لیے اسے واپس لینا ہوگا۔ انہوں نے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم صوبے میں اقلیت میں بھی رہے تو کیا شہریوں کو پانی، سڑکیں اور بنیادی سہولیات نہیں دی جائیں گی؟۔