راولپنڈی کی عدالت میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان کی جانب سے منگوائی گئی کتابیں عدالت میں جمع کرائی گئیں، جس کے بعد انہیں جیل حکام کے ذریعے فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔
عدالتی کارروائی کے دوران وکلا نے موقف اختیار کیا کہ مطالعہ قیدیوں کا بنیادی حق ہے اور عمران خان نے قانونی طریقہ کار کے تحت کتابوں کی فراہمی کی درخواست دی تھی۔ عدالت نے قواعد و ضوابط کے مطابق کتابیں فراہم کرنے کی اجازت دی، جس پر عملدرآمد کر دیا گیا۔
عمران خان کو جو کتابیں فراہم کی گئیں، ان میں انڈیا: برصغیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ شامل ہے، جو خطے کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کا جامع احاطہ کرتی ہے۔
اس کے علاوہ معروف ادبی ناول دی سن مسٹ سیٹ اور بین الاقوامی امور و جغرافیائی سیاست پر مبنی کتاب شٹرڈ لینڈز بھی شامل ہیں، جو عالمی تنازعات اور طاقت کی سیاست کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:زرتاج گل کی والدہ بقضائے الٰہی انتقال کر گئیں
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا مطالعہ سے لگاؤ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو رہا ہے، جیل میں بھی کتابوں کا انتخاب ان کی سنجیدہ فکری دلچسپیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ان کی ذاتی مصروفیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں ان کے نظریاتی رجحانات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان مختلف مقدمات کے باعث اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، تاہم عدالتی کارروائیاں اور قانونی امور بدستور جاری ہیں۔