
اس نئے قانون کا مقصد سیکیورٹی اداروں کی دہشتگردی کیخلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا اور ملک کو درپیش سنگین خطرات سے نمٹنا ہے۔ بل میں شفافیت، احتساب اور عدالتی نگرانی جیسے اہم نکات شامل کیے گئے ہیں تاکہ اختیارات کے استعمال میں کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔
ترمیمی بل کے تحت قومی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر مشتبہ افراد کی پیشگی گرفتاری ممکن ہوسکے گی، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے ذریعے مربوط تحقیقات کی جا سکیں گی۔ اس کے ساتھ ہی مسلح افواج اور سویلین اداروں کو مشتبہ افراد کی قانونی حراست کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔
قانون میں 3 سال کی سن سیٹ کلاز شامل کی گئی ہے تاکہ اس کی مدت محدود رہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ پارلیمنٹ کی منظوری سے توسیع کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے 13 اگست کو انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024 کی منظوری دی تھی، جس کی ایک شق میں تین سال کی توسیع کی گئی۔
حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہشتگردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔



