
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر فرقان احمد گزشتہ 4 روز سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
وہ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ہیڈ بلوکی کے متاثرہ دیہات کا دورہ کر رہے تھے کہ اچانک طبیعت بگڑ گئی۔ فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ فرقان احمد دن رات متاثرہ عوام کے درمیان موجود رہتے اور ریلیف آپریشن کی نگرانی خود کرتے تھے۔ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر سہولتیں پہنچانے کے عمل میں وہ بھرپور کردار ادا کر رہے تھے۔
افسران اور اہل علاقہ نے ان کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ مرحوم ایک فرض شناس اور محنتی افسر تھے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر عوامی خدمت کو ترجیح دی۔
اسسٹنٹ کمشنر کی میت کو ان کے آبائی علاقے منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ سرکاری سطح پر بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ سانحہ مقامی انتظامیہ اور عوام کیلئے ایک بڑا صدمہ ہے، جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔



