کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ دریا کو قید کرنے کا انجام کیا نکلتا ہے؟
کیا ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جب پانی کے قدیم راستے بدلے جائیں تو فطرت اپنی بغاوت کس طرح کرتی ہے ؟
کیا ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جب پانی کے قدیم راستے بدلے جائیں تو فطرت اپنی بغاوت کس طرح کرتی ہے ؟
(تحریر: یاسر رشید چوہدری) کیا ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جب پانی کے قدیم راستے بدلے جائیں تو فطرت اپنی بغاوت کس طرح کرتی ہے ؟ کیا ہمیں یاد ہے کہ ہر بڑے سیلاب کے بعد ہم نے وعدے تو کیے، منصوبے بھی بنائے، مگر کیا ان وعدوں پر عمل ہوا ؟

کیا یہ سوال ہمیں نہیں ستاتا کہ دریائے راوی جس کی گزرگاہیں صدیوں پرانی تھیں، جب ان پر کنکریٹ کے بند باندھے گئے اور جب زمین کے نیچے بہنے والے راستوں کو روک دیا گیا، تو کیا وہ خاموش رہ سکتا تھا ؟ کیا ہمیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ پانی کو روکا نہیں جا سکتا، اس کا راستہ بدلا جا سکتا ہے لیکن اس کی فطرت کو شکست نہیں دی جا سکتی ؟ کیا ہم نے یہ سوچا کہ زمین کا کھسک جانا، بستیاں بہہ جانا، کھیت برباد ہونا محض قدرتی آفت نہیں بلکہ ہماری اپنی غفلت کا نتیجہ ہے؟ کیا ہم نے ماضی کے سیلابوں سے سیکھا یا ہر بار کی تباہی کے بعد صرف تسلیاں دے کر بات ختم کر دی ؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر بروقت حفاظتی بند، درست نکاسی کے راستے، اور مضبوط حکمت عملی اختیار کر لی جاتی تو آج یہ منظر نہ دیکھنا پڑتا ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم نے دریا کو سمجھنے کے بجائے اسے قابو کرنے کی کوشش کی، اور یہی کوشش ہماری سب سے بڑی غلطی بن گئی؟
تہذیبوں کی داستان ہمیشہ دریاؤں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ بڑے شہر ہمیشہ ان موجوں کے پہلو میں پروان چڑھتے رہے جو زمین کو زرخیز اور انسان کو آسودگی عطا کرتی تھیں۔ یہ دریا ہی تھے جو شہروں کو پہچان بخشتے، ان کی زندگی میں سانس بھرتے اور جب یہ رخ موڑتے تو آبادیاں بھی ان کے ساتھ بہہ جاتیں۔ بغداد دجلہ کے ساتھ آباد ہوا، قاہرہ نیل کے سائے میں، لندن ٹیمز کے کنارے اور پاریس دریائے سین کے پہلو میں پروان چڑھا۔ اسی طرح ہزاروں برس سے لاہور بھی اپنی کہانی دریائے راوی کے ساتھ بُنتا آیا ہے۔
راوی اور لاہور کا رشتہ ایسا تھا جیسے روح اور بدن کا۔ ایک کی شان دوسرے کے بغیر مکمل نہ تھی۔ ہڑاپا کی پوری زندگی اسی دریا سے بندھی تھی۔ کھیت لہلہاتے تھے، مچھلیاں جالوں میں آتی تھیں، عورتیں گھڑوں میں پانی بھرتی تھیں اور بچے کنارے کھیلتے تھے۔ مگر جب راوی نے راستہ بدلا تو ہڑاپا کی خوشحالی بھی بہہ گئی۔ لوگ بیلوں کے جُھرمٹ، مٹی کے برتن اور خواب ساتھ لے کر دوسری ندیوں کی تلاش میں نکل گئے۔ آثار باقی رہ گئے مگر بستی کا شور خاموش ہو گیا۔ وقت گزرتا گیا، صدیوں تک ان کھنڈرات کو لوٹا گیا، اینٹیں تک نوچ لی گئیں اور ریل کی پٹریوں میں جڑ گئیں۔
مگر دریائے راوی بہتا رہا۔ ہڑاپا کی یادیں مٹ گئیں مگر اس کے کنارے نئی بستیاں بس گئیں۔ وسطی ایشیا کے گھڑ سوار آئے تو زرخیز زمین اور نرم ہوا نے انہیں روک لیا۔ یہی زمین بعد میں گنگا اور جمنا کی تہذیب کا سنگِ بنیاد بنی۔ آریاؤں نے یہاں بستیاں ڈالیں، سب سے بڑی بستی لاہور تھی جسے دریا نے جنم دیا۔ راوی کے بغیر لاہور کا تصور ادھورا ہے۔ آریا اس دریا کو مقدس مانتے تھے، وید میں اسے تیز بہتی ندی کہا گیا اور مہابھارت میں "ایراوتی" یعنی پانی سے بھرپور دریا۔ یہی نام بدلتے ہوئے آخرکار راوی بنا۔ سکندر نے اسے یونانی زبان میں "ہائڈروس" کہا مگر لاہور والوں کی زبان پر ہمیشہ راوی ہی رہا۔
یہ دریا لاہور کے لیے صرف پانی نہیں تھا بلکہ تحفظ بھی تھا۔ جنگلات کی کثرت حملہ آوروں کے لیے رکاوٹ بن جاتی، مویشیوں کو چارہ ملتا، لکڑیاں گھروں کی بنیادیں بنتیں اور کشتیاں یہاں سے تجارت کے سفر پر نکلتی تھیں۔ کبھی بڑے بڑے جہاز اس کی موجوں پر بہتے تھے۔ ہندوستان کی تجارت کا بنیادی سہارا یہی تھا۔ لیکن وقت کے دھارے بدلتے ہیں، دریا کی روانی کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی پلٹتی ہے۔ مغل جب ہندوستان آئے تو راوی کے کنارے انہوں نے بھی اپنا ٹھکانہ بنایا۔ جلال الدین اکبر نے مشرقی کنارے پر قلعہ تعمیر کروایا جو آج شاہی قلعہ کہلاتا ہے۔ شہر کی دیواریں اسی بہاؤ کے مطابق بنیں تاکہ لاہور کو بچایا جا سکے۔
اس وقت لاہور تین اطراف سے راوی کے پانی میں لپٹا ہوا تھا۔ مشرقی دروازہ شیر والا گیٹ براہِ راست دریا کی طرف کھلتا تھا۔ قلعہ کی بیرونی دیوار کے ساتھ بہتا ہوا پانی داتا دربار اور موری گیٹ کے قریب سے گزرتا اور پھر ایک خم کھا کر اردو بازار، ضلع کچہری اور سانڈھا کی سمت نکل جاتا۔ یوں شہر کو ہر طرف سے ایک قدرتی حصار حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لاہور کی شناخت اور اس کی شان دریائے راوی کے ساتھ جڑی رہی۔
ہڑاپا کے کھنڈرات گواہی دیتے ہیں کہ تہذیبیں دریا کے دم سے زندہ رہتی ہیں۔ جب پانی رخ موڑتا ہے تو شہر بھی ڈوب جاتے ہیں۔ مگر لاہور اب تک سانس لے رہا ہے کیونکہ اس کی رگوں میں راوی کی پرانی کہانی بہتی ہے، وہ کہانی جو تہذیبوں کو جنم دیتی ہے اور پھر ان کے مٹنے کا نوحہ بھی پڑھتی ہے۔
لاہور اور دریائے راوی کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ صرف ایک دریا اور ایک شہر کا تعلق نہیں بلکہ ایک ایسی کہانی ہے جو وقت کی گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب لاہور کا وجود بھی نہیں تھا، تب ہڑاپا کی دھرتی کو سانس اسی دریا نے دیا تھا۔ ہڑاپا کی خوشبو، اس کے کھیت، اس کی گلیاں اور اس کی رونقیں سب دریائے راوی کے کرم سے تھیں۔ مگر آج ہڑاپا کی تہذیب مٹ چکی ہے، لوگ غائب ہیں، زبان وقت کے دھندلکوں میں کھو گئی ہے، لیکن یہ سچ باقی ہے کہ وہ عظیم شہر اسی دریا کی دین تھا۔
یہ راز ہمیشہ پوشیدہ رہا کہ ہڑاپا کے لوگ راوی کو کس نام سے پکارتے تھے۔ ان کی بولی مٹ گئی، ان کی یادیں وقت نے نگل لیں، مگر دریا بہتا رہا۔ صدیوں تک ہڑاپا راوی کی موجوں سے جیتا رہا، پھر آہستہ آہستہ اس کا سہارا ڈھیلا پڑنے لگا۔ دریا نے شاید راستہ بدل لیا اور ہڑاپا اپنے مخلص ساتھی سے محروم ہو گیا۔ جیسے جیسے دریا کا بہاؤ ہٹتا گیا، ہڑاپا کی کھیتی ویران ہونے لگی، خوشحالی بکھر گئی۔ کسان ہجرت کر گئے، عورتیں گھڑے سنبھال کر کسی اور پانی کی تلاش میں نکل گئیں، مچھلیاں پکڑنے والے اپنی کشتیوں سمیت روانہ ہو گئے، بچے بھی اپنی ہنسی اور کھیل کسی اور دھرتی پر لے گئے۔

جب انسان ہٹ گئے تو ہڑاپا کی بستی مر گئی۔ کھنڈرات بچے، کچھ دھندلے آثار رہ گئے جو وقت کے غبار میں پہچاننے مشکل ہیں۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا، کیونکہ جب دریا راستہ بدلتا ہے تو کوئی عدالت، کوئی بادشاہ، کوئی حکم اسے روک نہیں سکتا۔
تاریخ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ تہذیبیں دریاؤں کے سنگ زندہ رہتی ہیں۔ یہی پانی شہروں کی پہچان بنتا ہے۔ شہر اور دریا ساتھ جیتے ہیں اور ساتھ ہی مرتے ہیں۔ جیسے سندھ کے کنارے حیدرآباد، دجلہ کے ساتھ بغداد، نیل کے سائے میں قاہرہ، ٹیمز کے ساتھ لندن، سین کے کنارے پاریس اور گنگا جمنا کے سنگم پر بنارس پروان چڑھے۔ اسی طرح ہزاروں برس سے لاہور بھی ایک سمندر کی مانند دریائے راوی کے پہلو میں آباد ہے۔ راوی لاہور کی شان ہے اور لاہور راوی کی۔ یہ رشتہ وقت کے ہر طوفان اور ہر زوال کے باوجود قائم ہے۔
جب پانی کی روانی تھم جائے تو زمین کی زرخیزی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ دریا نہ ہو تو کھیت کہاں لہلہاتے، جانور کہاں چرنے جاتے اور مچھلیاں کہاں سے جال میں آتیں؟ یہی ہوا ہڑاپا کے ساتھ۔ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے نکل گئے اور بستی خالی ہو گئی۔ ہڑاپا والے نئی ندیاں ڈھونڈنے نکلے مگر پیچھے بس چند مدھم نشان رہ گئے، ایسے کہ جنہیں پہچاننا بھی مشکل ہے۔ قدرت کے فیصلے انسان کے اختیار سے باہر ہیں۔ جب دریا اپنا رخ بدل لے تو نہ کوئی عدالت اور نہ کوئی طاقت اسے روک سکتی ہے۔
یہی سچ ہمیشہ سے رہا ہے کہ تہذیبوں کے بڑے شہر دریاؤں کے پہلو میں ہی بسے۔ پانی ان کی پہچان تھا، ان کا سہارا اور ان کا رازق۔ شہر اور دریا ایک ساتھ جیتے اور ایک ساتھ مرتے رہے۔ سندھ کے کنارے حیدرآباد کھڑا ہوا، دجلہ کے ساتھ بغداد کی رونق جمی، نیل کے پہلو میں قاہرہ سانس لیتا رہا، ٹیمز کے سنگ لندن پروان چڑھا، سین نے پاریس کو سہارا دیا اور گنگا جمنا کے سنگم نے بنارس کو جنم دیا۔
انہی کہانیوں کی طرح ہزاروں برس سے لاہور بھی ایک سمندر کی مانند دریائے راوی کے ساتھ آباد ہے۔ راوی لاہور کی پہچان ہے اور لاہور راوی کی شان۔ یہاں تک کہ جب لاہور کا نام و نشان بھی نہ تھا، اس سے بہت پہلے ہڑاپا کے لوگوں کی زندگی اسی دریا کی دین تھی۔ ہڑاپا کی تہذیب مٹ گئی، اس کے لوگ اور ان کی زبان گم ہو گئی، مگر اس عظیم شہر کی بنیاد راوی کے پانی ہی نے رکھی تھی۔
صدیوں تک ہڑاپا اس دریا کی موجوں سے آسودہ رہا، پھر آہستہ آہستہ فاصلے بڑھ گئے۔ شاید دریا نے رخ موڑ لیا اور ہڑاپا کو تنہا چھوڑ دیا۔ دریا بدلتا گیا تو کھیت سوکھ گئے، خوشحالی ختم ہو گئی اور لوگ اپنے جانوروں، بچوں اور خوابوں سمیت ہجرت کر گئے۔ جب پانی نہ ہو تو زندگی بھی نہیں رہتی۔ یہی وجہ تھی کہ ہڑاپا سمٹ گیا اور تاریخ میں محض دھندلے آثار بن کر رہ گیا۔
قدرت کی یہی مداخلت سب سے سخت ہے۔ دریا راستہ بدل لے تو نہ کوئی دیوار، نہ کوئی عدالت اسے روک سکتی ہے۔ یہی اٹل قانون ہے اور یہی وہ سبق ہے جس نے بار بار تاریخ کو لکھا۔
دریائے راوی کی بے حسی اور ہمارے اجتماعی خوابِ غفلت کا ذکر اگر یہیں ختم کر دیا جائے تو شاید کہانی ادھوری رہ جائے، کیونکہ اصل دکھ صرف یہ نہیں کہ ہم نے اپنے دریا کا راستہ روکا، اس کے سینے پر کنکریٹ کے بوجھ ڈالے اور پھر ہر بار بارش کے طوفان پر حیران رہ گئے، اصل دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس دریا کے ساتھ جڑی پوری تہذیب، پوری تاریخ اور ایک پورا طرزِ زندگی بھی مٹا ڈالا۔ راوی صرف پانی کی ایک دھار نہیں تھا بلکہ لاہور کی سانس تھی، اس کے کناروں پر بستیاں آباد تھیں، زمینداروں کے کھیت لہلہاتے تھے، بچوں کے کھیلنے کی صدائیں گونجتی تھیں، صوفی بزرگوں کی محفلیں سجی تھیں، اور یہ سب کچھ محض چند دہائیوں میں ہمارے ہاتھوں برباد ہو گیا۔
ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ جب ایک دریا سوکھتا ہے تو صرف زمین نہیں سوکھتی بلکہ دل بھی بنجر ہو جاتے ہیں۔ درخت کم ہوتے ہیں تو ہوا میں زہر بڑھتا ہے، پرندے ہجرت کر جاتے ہیں تو فضائیں سونی ہو جاتی ہیں، زمین کھوکھلی ہو جاتی ہے تو بارش کی بوند بھی زخم بن جاتی ہے۔ اور پھر یہی زخم طوفانی بارش کے ساتھ ناسور بن کر ہمارے شہروں کو ڈبو دیتے ہیں۔ مگر ہم ہر سال یہی کہتے ہیں کہ یہ تو قدرت کا قہر ہے، یہ تو بارش زیادہ ہو گئی۔ ہم یہ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ اصل قہر ہماری اپنی غفلت ہے، اصل جرم ہمارا خود کو دھوکہ دینا ہے۔
اگر ہم نے وقت پر بند باندھنے کی بجائے پانی کے قدرتی راستے بحال کیے ہوتے، اگر ہم نے دریا کو دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھا ہوتا تو شاید آج یہ زمین بربادی کی بجائے خوشحالی کی گواہی دے رہی ہوتی۔ مگر ہم نے دریا سے دشمنی کی اور اس دشمنی کا انجام یہی نکلا کہ دریا نے اپنی کہانی ہم سے چھین لی۔ اب ہمارے پاس باقی کیا ہے؟ صرف کنکریٹ کی دیواریں، سیلاب کا خوف، اور وہ بے رحم حقیقت کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو پانی کے بغیر، چھاؤں کے بغیر اور زندگی کے بغیر ایک بے روح شہر دیا ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ معاملہ صرف ایک دریا کا نہیں بلکہ ایک نظریے کا ہے، یہ اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے جو فطرت کو قابو میں کرنے کے غرور میں مبتلا ہے۔ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ زمین ہماری ملکیت ہے، پانی ہماری مرضی سے بہے گا، آسمان ہماری مرضی سے برسے گا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ قدرت اپنی بقا کے لیے اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے اور جب وہ اپنا حق مانگتی ہے تو انسان کی بنائی ہر عمارت ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔
سو آج جب ہم راوی کو دیکھتے ہیں تو یہ محض ایک سوکھا ہوا دریا نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہمارے جرائم دکھاتا ہے۔ یہ آئینہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے دنوں میں یہ کہانی صرف لاہور تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا پاکستان اسی طرح اپنی زمینوں، اپنے دریاؤں اور اپنی سانسوں کو کھو دے گا۔ اور تب تاریخ ہم سے یہی سوال کرے گی کہ تم نے دریا کو کیوں مارا؟ تم نے پانی کو کیوں زہر دیا؟ تم نے اپنی زمین کو کیوں دشمن بنایا؟ اور اس سوال کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں ہو گا۔
راوی دریا کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا، وہ ہماری بدترین غفلت کی علامت ہے۔ اس کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹیں ڈال کر، جگہ جگہ تجاوزات قائم کرکے اور بے ہنگم بستیاں بسا کر ہم نے خود اپنی زمین کو خطرے میں ڈالا۔ دریا کا راستہ تنگ ہوا تو وہ شہر کی طرف لپکا، اور جب وہ اپنی پوری قوت سے پلٹا تو بستیاں ڈوب گئیں، کھیت اجڑ گئے اور سینکڑوں زندگیاں خطرے میں آگئیں۔ یہ محض ایک آفت نہیں تھی بلکہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی پیدا کردہ مصیبت تھی۔ اب بھی اگر ہم نے یہ روش نہ بدلی، اگر دریا کے راستوں کو ان کا حق واپس نہ کیا، اگر قدرتی بہاؤ کے ساتھ چھیڑچھاڑ جاری رہی تو آنے والے وقت میں نقصانات کہیں زیادہ ہوں گے۔