انقرہ میں دہشت گرد حملہ

October, 23 2024
انقرہ:(ویب ڈیسک) ترکیہ کے دارالخلافہ انقرہ کے قریب واقع ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز کے ہیڈ کوارٹر زکے باہر ایک دھماکے کے نتیجے میں کئی افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔
دھماکے کی شدت اور اس کے اثرات:
بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں دھماکے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دی گئیں۔ وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ بھی ہو سکتا ہے، جس کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔
فوری حفاظتی اقدامات:
حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز، ایمبولینسز اور فائر فائٹرز کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔ کمپنی کے ملازمین کو حفاظتی اقدامات کے تحت ایک محفوظ علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد علاقے میں دھوئیں کے بڑے بادل اور ایک بڑی آگ لگی ہوئی دیکھی گئی۔
حملے کی جگہ کا تعین:
یہ واقعہ انقرہ سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع کہرامانکازان نامی چھوٹے قصبے میں پیش آیا۔ اس علاقے میں ایرو اسپیس اور دفاعی صنعت کی اہم تنصیبات واقع ہیں، جو ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
تحقیقات کا آغاز:
ترکی کی حکومت نے اس حملے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کے پس پردہ عوامل کا پتہ لگانے کے لیے پوری کوششیں کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے اس واقعے نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، اور حکومت نے عوام کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے ردعمل:
عالمی برادری نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ترکیہ کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں اور ممالک نے اس دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے متاثرین کے لیے دعاؤں کا اظہار کیا ہے۔
مستقبل کی چیلنجز:
یہ واقعہ ترکیہ کی سیکیورٹی صورتحال پر ایک نیا سوال اٹھاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے حملوں کی روک تھام کے لیے مزید موثر اقدامات اٹھائے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
ضرور پڑھیں