’وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا‘ :جسٹس منصور علی شاہ

October, 22 2024
اسلام آباد:(ویب ڈیسک) 26ویں آئینی ترمیم کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو آج اپنے اجلاس میں پاکستان کے نئے چیف جسٹس کا فیصلہ کرے گی۔
اس کمیٹی کا قیام نئے چیف جسٹس کے تقرر کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے عمل میں آیا ہے۔ نئے چیف جسٹس کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی قبل از وقت ہوگی، تاہم اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
سپریم کورٹ میں جی 10 ٹو اپارٹمنٹ کیس کی سماعت:
سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 ٹو میں اپارٹمنٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت کی۔ اس بنچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی بھی شامل تھے۔
کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا۔
درخواست گزار کی نیک خواہشات اور جسٹس منصور علی شاہ کا ردعمل"
دوران سماعت، ایک دلچسپ لمحہ اس وقت پیش آیا جب درخواست گزار خوشدل خان ملک نے جسٹس منصور علی شاہ کے ممکنہ طور پر چیف جسٹس بننے کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
درخواست گزار نے کہا، "ہماری دعا ہے کہ آپ اسی طرح بنچ نمبر ایک میں ہی رہیں۔"
جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے عاجزی کے ساتھ جواب دیا، "جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا۔"
ان کا یہ جواب عکاسی کرتا ہے کہ وہ فیصلوں کو اللہ کی مرضی کے تابع سمجھتے ہیں اور کسی بھی عہدے کے حصول کو اللہ کی رضا پر چھوڑتے ہیں۔
بنچ نمبر ایک اور چیف جسٹس کی اہمیت:
سپریم کورٹ میں بنچ نمبر ایک کو چیف جسٹس کی نشست تصور کیا جاتا ہے، جس میں دیگر سینئر ججز بھی شامل ہوتے ہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے جسٹس منصور علی شاہ کو بینچ نمبر ایک میں دیکھنے کی خواہش ان کی سینیارٹی کے پیش نظر کی گئی، کیونکہ وہ چیف جسٹس بننے کے اہل ہیں۔
تاہم، اب اس کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے گی، جسے آئینی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نئے چیف جسٹس کا انتخاب کرے۔
نئے چیف جسٹس کی تقرری کا عمل اور پارلیمانی کمیٹی کا کردار:
نئے چیف جسٹس کی تقرری کا معاملہ اہمیت کا حامل ہے اور اس حوالے سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نئے چیف جسٹس کا تقرر سپریم کورٹ کے سینئر ججز میں سے کرے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ کی سینیارٹی اور قابلیت کی وجہ سے ان کا نام بھی زیر غور ہے، لیکن حتمی فیصلہ کمیٹی کے صوابدیدی اختیار کے تحت ہوگا۔
ضرور پڑھیں