
آٹھ قسم کے عائد ٹیکسوں میں ایک ٹیکس کو،فردر، یعنی مزید ٹیکس کا نام دیا گیا ہے جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا لیکن حکومت صارفین کو 13 ارب روپے کا چونا لگا لیتی ہے۔
بجلی بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے، 8 قسم کے مختلف ٹیکس عائد ہونے کا انکشاف ہوا ہے، وفاقی حکومت عوام کی جیبوں سے سالانہ 954 ارب روپے نکال لیتی ہے، ٹیکسوں میں وفاق کا حصہ 391 ارب روپے اور صوبوں کا 563ارب روپے ہے۔
دستاویز کے مطابق بجلی بل میں 9 روپے فی یونٹ وفاقی حکومت کے ٹیکس ہیں جبکہ گھریلو، کمرشل، صنعتی اورزرعی صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
بجلی بلوں پر 10 سے 12 فیصد انکم ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے جس سے 98 ارب روبے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ نان فائلرز کے 25 ہزار روپے کے بل پر ساڑھے 7فیصد عائد ایڈوانس ٹیکس سے حکومت 4 ارب ریونیو اکٹھا کرتی ہے۔
بجلی صارفین سے فردر ٹیکس کی مدمیں سالانہ 13 ارب روپے ،ایکسٹرا سیلز ٹیکس کی مد میں 54 ارب روپے جبکہ ساڑھے 7 فیصد ریٹیلرز سیلز ٹیکس سے 9 ارب روپے کا ریونیو جمع کیا جاتا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ 1.5 فیصد الیکٹرسٹی ڈیوٹی کی مد میں 53 ارب اور پی ٹی وی فیس کی مد میں 14ارب اکٹھے ہوتے ہیں۔
ٹیکسوں کے علاوہ صارفین سے ماہانہ ،سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ، فکسڈ ٹیکسز اورمقررہ تاریخ پر بل جمع نہ کرانے پر بھاری جرمانے بھی وصول کیے جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر سال اربوں روپے کی ٹیکس وصولیوں کے باوجود گردشی قرض مسلسل بے قابو ہے۔



