عالمی منڈی کے اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 103.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 3 ڈالر 71 سینٹ کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی نئی قیمت تقریباً 99 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطی میں کشیدگی: خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں اور توانائی کے تاجروں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا کے سب سے اہم تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈی کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے باعث خلیج میں تیل کی ترسیل کے اہم راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور بجلی کی پیداوار کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں جس کا اثر عام صارفین تک پہنچتا ہے۔