Homeتازہ ترینروس کا نیم فوجی دستہ” ویگنر گروپ” کیا ہے؟

روس کا نیم فوجی دستہ” ویگنر گروپ” کیا ہے؟

russian wagner group

روس کا نیم فوجی دستہ” ویگنر گروپ” کیا ہے؟

یوکرین جنگ میں برسرِ پیکار نیم فوجی دستے “ویگنر گروپ” نے روس کیخلاف بغاوت کا اعلان کردیا ہے۔ یہ گروپ گذشتہ8 سالوں سے یوکرین، شام اور افریقی ممالک میں سرگرم ہے اور اس پر بارہا جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

ویگنر گروپ کیسے شروع ہوا؟

ویگنر گروپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سابق روسی فوجی افسر، 51 سالہ دمتری یوٹکن نے ویگنر گروپ کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ چیچن جنگوں کا تجربہ کار، اسپیشل فورسز کا سابق افسر اور روس کی ملٹری انٹیلی جنس سروس GRU میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھا۔

ویگنر گروپ پہلی بار روس کے 2014 ء میں کریمیا کے الحاق کے دوران منظر عام پر آیا۔ اس وقت اس میں 1 ہزار کے قریب کرائے کے فوجی شامل تھے جنہوں نے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا اور لوہانسک اور ڈونیٹسک کے علاقوں پر کنٹرول کے لیے لڑنے والی روس نواز ملیشیاؤں کی حمایت کی۔

ایک رپورٹ کے مطابق ویگنر بنیادی طور پر فوجی سابق فوجیوں کو بھرتی کرتا ہے ، جنہیں اپنے قرضے ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ دیہی علاقوں سے آتے ہیں جہاں ان کے لیے پیسہ کمانے کے بہت کم مواقع ہوتے ہیں۔

ویگنر گروپ کی مالی امداد کون کرتا ہے؟

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ روس کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی GRU خفیہ طور پر ویگنر کے گروپ کی مالی امداد اور نگرانی کر رہی ہے۔ تاہم روس نے ہمیشہ ویگنر اور حکومت کے درمیان کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔

ویگنر گروپ کی کارروائیاں

2015 ء میں، ویگنر گروپ نے شام میں کام کرنا شروع کیا تاکہ وہ حکومت کی حامی افواج کے ساتھ مل کر لڑے اور اور تیل کے ذخائر کی حفاظت کی جا سکے۔ یہ گروپ 2016 ء سے لیبیا میں بھی سرگرم ہے اور اس نے جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار افواج کی حمایت کی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 2019 ء میں طرابلس میں سرکاری حکومت میں ہفتار کو اقتدار میں لانے میں 1,000 تک ویگنر کے کرائے کے فوجی ملوث تھے۔

2017 ء میں، ویگنر گروپ کو ہیروں کی کانوں کی حفاظت کے لیے وسطی افریقی جمہوریہ (CAR) میں بھیجا گیا تھا۔ اس کی سوڈان میں سونے کی کانوں کی حفاظت کے لیے سرگرم ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

حال ہی میں ویگنر گروپ کو مغربی افریقہ میں مالی کی حکومت نے اسلامی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی دعوت دی تھی۔ 2021 ء میں اس گروپ کی آمد نے فرانس کے اس ملک سے اپنی افواج نکالنے کے فیصلے کو متاثر کیا۔ ویگنر گروپ کے پاس دنیا بھر میں کل تقریباً 5000 کرائے کے فوجی ہیں۔

ویگنر پر کن جرائم کا الزام لگایا گیا ہے؟

اقوام متحدہ اور فرانسیسی حکومت نے ویگنر کے کرائے کے فوجیوں پر وسطی افریقی جمہوریہ میں شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور لوٹ مار کا الزام لگایا ہے اور یورپی یونین نے ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ 2020 ء میں، امریکی فوج نے ویگنر کے کرائے کے فوجیوں پر لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور اس کے آس پاس بارودی سرنگیں اور دیگر دیسی ساختہ بم نصب کرنے کا الزام لگایا۔

کہا جاتا ہے کہ یوفگینی پریگوژن ویگنر گروپ کے سربراہ ہیں، ان کا شمارر وسی صدر ولادیمیر پیوتن کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اس گروہ کی مالی پشت پناہی کرتے ہیں، ان ہی الزامات کے تحت امریکہ نےان پر متعدد مرتبہ پابندیاں عائد کی ہیں۔

اب روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو پہلی بڑی بغاوت کا سامنا ہے کیونکہ یوکرین میں لڑنے والے نیم فوجی دستے ویگنر گروپ نے روسی فوج کے خلاف بغاوت کردی ہے۔

گروپ کے سربراہ یفگینی پریگوژن نے اپنے جنگجوؤں کو ماسکو کی جانب مارچ کرنے کا حکم دے دیاجبکہ ویگنر گروپ نےماسکو کو جنوبی علاقوں سے ملانے والی شاہراہ پرقبضہ کرلیا ہے۔ویگنر گروپ کے سربراہ یفگینی پریگوژن نے روسی عوام سے لڑائی سے دور رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روسی فوج کی تمام قیادت کو ہٹا کر دم لوں گا۔

یفگینی پریگوژن نے روسی وزارت دفاع کو برائی قرار دیا اور کہا کہ روسی وزیر دفاع نے اپنے ہی فوجیوں کو مارنے کاپلان بنایا تھا، مبینہ میزائل حملے میں ویگنر گروپ کے فوجیوں کی ہلاکت میں روسی وزارت دفاع کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گروپ میں شامل سینکڑوں جنگجوؤں کو وزیردفاع کے حکم پر ہلاک کیا گیا جبکہ 2ہزارکے قریب جنگجوؤں کی لاشیں چھپا دی گئی ہیں تاکہ یوکرین میں نقصانات کو کم دکھایا جاسکے ۔

ویگنر گروپ کے سربراہ نےدستےیوکرین سے واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی ضرورت ہی نہیں تھی بلکہ وزیر دفاع نے اس جنگ کو اپنے لیے ایک اور تمغہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا۔

کریملن نے ویگنر گروپ کی جانب سے لگائے گئے بمباری کے الزامات کو مستردکر دیا ہے۔نئی پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ماسکو کی سڑکوں پر ٹینک بلالیے گئے ہیں۔روسی پراسیکیوٹرنے میڈیا کو بتایا کہ نئی پیداہونیوالی صورتحال سےصدر پیوٹن کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جارہا ہے، بغاوت کےالزام میں ویگنر گروپ کے سربراہ کو گرفتار کرنے کے احکامات دے دیئے ہیں۔

Share With:
Rate This Article