19 April 2024

Homeپاکستانپاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور وزارت خارجہ میں طلب

پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور وزارت خارجہ میں طلب

وزارت خارجہ پاکستان کے دفتر کا بیرونی منظر

پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور وزارت خارجہ میں طلب

اسلام آباد:(سنو نیوز) ایران کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان نے شدید مذمت کی ہے، ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستانی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی کی ہے۔

ایران کا حملہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے اور ناقابل قبول ہے، ایرانی حملے میں 2 بچے جاں بحق اور 3 بچیاں زخمی ہوئی ہیں، ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے احتجاج کیا ہے، پاکستان کی خود مختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور ناقابل قبول ہے۔


دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے ایران پر عائد ہوگی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی خطے کے تمام ممالک کیلئے مشترکہ خطرہ ہے جس کیلئے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے، اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور یہ دو طرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی فضائی حدود میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہوئی تھیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بات اور بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز موجود ہونے کے باوجود یہ غیرقانونی عمل ہوا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ میں متعلقہ سینیئر عہدیدار کے پاس شدید احتجاج درج کرایا جا چکا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ ”دہشتگردی خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے“، اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں، یکطرفہ کارروائیاں دو طرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

اِس واقع کا جواز پیدا کرنے کےلئیے جیش العدل کی جانب سے فیک پریس ریلیز بھی جاری کاروائی کروائی گئی، اِس بات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کے اِس واقعہ کی ساری ذمہ داری ایران گورنمنٹ، آئی آر جی سی اور ایران انٹیلیجینس پر عائد ہوتی ہے،افسوس ناک طور پر اس المناک واقعے کی مذمت کی بجائے ایک مخصوص سیاسی جماعت اپنے مذموم عزائم کی خاطر اس واقعے کو بنیاد بنا کر ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش میں ہمیشہ کی طرح مصروف ہے۔

ایران کے اس فضائی حملے کی خلاف ورزی کے بعد مخصوص سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے انڈین اکاؤنٹس کے ساتھ مل کر من گھڑت پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی خاطر یکجان ہو کر انتشار کی سیاست کے بجائے پاکستان کی سا لمیت اور خودمختاری کو ترجیح دی جائے۔

اس کے علاوہ ایرانی ناظم الامور کو بھی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی خودمختاری کی اس صریح خلاف ورزی کی شدید مذمت کی جائے۔

خیال رہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نور نیوز کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جیش العدل نامی تنظیم کے دو ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔

Share With:
Rate This Article