Homeتازہ ترینپیٹریاٹ میزائل کیا ہے؟

پیٹریاٹ میزائل کیا ہے؟

پیٹریاٹ میزائل کیا ہے؟

پیٹریاٹ زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے۔ پیٹریاٹ (فیزڈ اری ٹریکنگ ریڈار ٹو انٹرسیپٹ آن ٹارگٹ) دنیا کا بہترین میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ میزائل روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مضبوط کرے گا۔

چند سیکنڈ میں یہ میزائل سپرسونک رفتار پکڑ لیتا ہے۔ عام زبان میں بات کریں تو یہ دشمن کے میزائل کو ایسے مارتا ہے جیسے بندوق سے چلائی گئی گولی دوسری گولی سے ٹکرا جاتی ہے۔

امریکہ اب تک یہ میزائل سسٹم ہالینڈ، پولینڈ، جرمنی، جاپان، اسرائیل، سعودی عرب، کویت، تائیوان، یونان، اسپین، متحدہ عرب امارات، قطر، رومانیہ اور سویڈن کو فروخت کر چکا ہے۔

پیٹریاٹ میزائل پہلی بار 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد منظر عام پر آیا تھا۔ اس میزائل نے خلیج کی پہلی جنگ میں صدام حسین کے سکڈ میزائلوں کو شکست دی تھی۔ سنہ 2014 میں اسرائیل نے اس میزائل سے شام کا ایک سخوئی لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ میزائل یوکرین کو کتنی طاقت دینے والاہے۔ اس کے ذریعے اب یوکرین روس کے سخوئی جیسے ہائی ٹیک لڑاکا طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکہ کے اس قدم سے ایک بات واضح ہے کہ یہ جنگ کا رخ ضرور بدل سکتا ہے۔

خبریں ہیں کہ امریکہ یوکرین کو ایسا ہتھیار دینے جا رہا ہے جو روس کے خلاف جنگ میں فائندہ مند ثابت ہوگا۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ جلد ہی اس کا اعلان کرنے والاہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ امریکہ یوکرین کو مزید کئی ہائی ٹیک ہتھیار بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ان میں اسمارٹ بم بھی شامل ہیں جو ہدف کو درست طریقے سے نشانہ بناتے ہیں۔ روس نے امریکہ کی ان کوششوں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہاہے کہ یوکرین کو ملنے والے پیٹریاٹ میزائل سمیت کسی بھی قسم کا غیر ملکی ہتھیار جنگ میں اس کا ہدف ہوگا۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی طرف سے یوکرین کو دیا جانے والا ہر ہتھیار روس کیخلاف جارحیت تصور ہوگا۔ اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ “ہم ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ہم یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کو نشانہ بنائیں گے۔ ہم نے یہ بات کئی بار دہرائی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ نیٹو ارکان پر یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ 30 نومبر کو بخارسٹ میں ہونے والی میٹنگ میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اب تک نیٹو نے یوکرین کو 40 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار بھیجے ہیں۔

امریکہ میں روسی سفارت خانے نے بھی کہا ہے کہ یہ ایک اشتعال انگیزی ہے جس کے غیر متوقع نتائج ہو سکتے ہیں۔ سفارتخانے نے اپنے بیان میں لکھا، “اسلحے کی مسلسل فراہمی زیلنسکی کو عام لوگوں کے خلاف جرائم کرنے کی مزید طاقت دے رہی ہے۔ پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کے بغیر بھی، امریکہ یوکرین کی جنگ میں غرق ہو رہا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ امریکی حکمت عملی سے ناصرف روس امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی سلامتی بھی خطرے میں پڑ رہی ہے۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’یوکرین جنگ کو طول دینے اور اس میں شدت لانے کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے‘‘۔

یوکرین کو لگتا ہے کہ روس کے خلاف جنگ میں اسے خطرہ زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے ہونے والے حملوں سے ہے۔ روس حالیہ دنوں میں یوکرین کے بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملے کر رہا ہے۔ روس نے یوکرین میں بجلی گھروں کو نشانہ بنایا ہے، اور اس موسم سرما میں لاکھوں گھروں کی بجلی اور پانی منقطع کر دیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں یوکرین کو دوسرے ممالک سے بھی بہت سے جدید ہتھیار ملے ہیں۔ یوکرین کے پاس NASAM اور Iris-T سسٹم موجود ہیں۔ لیکن یوکرین کو مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ اسے خاص طور پر فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے شہروں کے پاور اسٹیشنوں کو روسی حملوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ساتھ ہی، جنگ کی فرنٹ لائن پر یہ روس پر بھاری پڑ سکتا ہے۔

یوکرین پہلے ہی امریکہ سے پیٹریاٹ میزائل مانگتا رہا ہے۔ لیکن ایران کی طرف سے روس کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل دینے کی دھمکی نے صورتحال بدل دی ہے۔

Share With:
Rate This Article